ملک میں امن و امان اور معاشی استحکام کے لیے کراچی میں مذہبی وسماجی ہم آہنگی کا قیام لازمی ہے ۔ پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز

اسلام آباد – کراچی میں مذہبی ہم آہنگی اور امن و امان کے قیام کے لیے مری میں اسلامی نظریاتی کونسل اور انٹرنیشنل ریسرچ کونسل برائے مذہبی امورکے اشتراک سے تمام مسالک کے جیّد علماء اور صحافیوں کی تین روزہ مشاورتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس میں کراچی سے تعلق رکھنے والے تمام مذاہب اور مسالک کے نمائندوں کے علاوہ سینیٹر ز ، اراکین اسمبلی اور صحافیوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا ۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئر مین پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ کراچی منی پاکستان ہے جہاں پاکستان کے تقریبا تمام مذاہب ، قومیتوں اور علاقوں کے لوگ موجود ہیں ،کراچی پاکستان کا معاشی حب ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی فکری رہ نمائی کا بھی مرکز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں معاشی
سرگرمیوں کو جاری و ساری رکھنے کے لیے کراچی میں لسانی ، مذہبی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا قیام ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے لہذاکراچی کی سیاسی اور مذہبی قیادت پر لازم ہے وہ پیغام پاکستان کو اصل روح کے ساتھ اپنے معاشرے میں نافذ کریں ۔

oic 1

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق سیکرٹری دفاع جنرل رنعیم لودھی نے پاکستان کے داخلی مسائل اور ان کے حل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو اس وقت داخلی حوالے سے کئی چیلنجز کا سامنا ہے ۔ پوری قوم ان مسائل کو گہرائی کے ساتھ سمجھ کر ہی ان مسائل سے نکل سکتی ہے ، جس میں تمام طبقات کا آپس میں اتفاق اور ملی یکجہتی ضروری ہے، جنرل ر سعد خٹک اور کراچی میں امن و امان کے مسائل سے متعلق کتاب کے مصنف صحافی ضیاء الرحمان نے کراچی میں سیکورٹی کےمسائل سے متعلق بات کرتے ہوئے کہاکہ کراچی میں لسانی سمیت تمام فسادات پر قابو پایا گیا۔ مگر مسلکی ہم آہنگی پر کام کی اب بھی ضرورت باقی ہے،

oic 4

ادارہ تحقیقات اسلامی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ضیاء الحق نے پیغام پاکستان پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پیغام پاکستان ایک ایسی دستاویز جس سے پاکستان میں ہی نہیں دیگر اسلامی ممالک بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پیغام پاکستان کا منبر و محراب ،میڈیااور پارلیمان سے ابلاغ ضروری ہے ۔اس کیلئے نچلی سطح پر کئی اقدامات ضروری ہیں ۔

کانفرنس سے شرکاء نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ کہ تعلیمی نظام میں انتہاپسندی کیخلاف کام کرنے کی ضرورت ہے، یونیورسٹیز میں مسلکی ہم آہنگی اور امن و امان کیلئے خصوصی کورسز کا اہتمام کرنے کی ضرورت ہے،مفتی زبیر اشرف عثمانی نے کہا کہ دہشت گردی کو روکنے کے لیے ظلم کا دروازہ بند کرنا ہوگا ۔ دہشت گردی فتووں اور سیمیناروں سے خاتمہ مشکل ہے بلکہ معاشرتی سطح پر مزید اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔
شرکاء نے کہا کہ اسلامی تعلیمات امن اور مساوات کا درس دیتی ہیں ۔ ان میں دہشت گردی ، اشتعال انگیز ی اور فرقہ واریت حرام ہے ۔کانفرنس کے شرکا میں ڈاکٹر شازیہ صوبیہ اسلم ممبر قومی اسمبلی اور اقلیتی نمائندے سینیٹر کرشنا کماری نے کانفرنس کی جملہ سفارشات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ انتہا پسندی کیخلاف ایک ٹھوس لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ اور ان سفارشات کو حکومتی سطح لیکر جائیں گے۔ اور پالیسی لیول کو موثر منصوبہ بندی
کریں گے۔
ورکشاپ کے اہتمام پر پرامن کراچی کے نام سے ایک فورم تشکیل دیا گیا، جس میں تمام مسالک، مکتبہ فکر،اور مذاہب کی نمائندگی ہوگی، یہ فورم کراچی میں ہرقسم کے لسانی، مسلکی، نسلی تشدد اور انتہاپسندی کا راستہ روکے گی، اور تمام مسالک اور مذاہب کے رہنما یک آواز ہوکر امن و امان کی بحالی اور بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے کوششیں کریں گے۔
تمام شرکا نے اس فورم کی تائید کی اور اس کیلئے ٹھوس لائحہ عمل کیساتھ کیساتھ عملی سرگرمیوں پر طویل غور خوض کیا،
اس میٹنگ کے میزبان پروفیسر قبلہ آیاز صاحب اور اسرار مدنی نے شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں امن کاری،بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی سمیت نسلی اور لسانی امتیاز و فرقہ واریت اور تشدد کو روکنے کیلئے شرکاء مجلس کے تجاویز کو ارکان پارلیمنٹ سمیت، سندھ حکومت، نیکٹا، تعلیمی اداروں، یونیورسٹیز، مذہبی قائدین اور سول سوسائٹی کے تنظیموں کیساتھ شئیر کیا جائیگا تاکہ تمام ادارے ملکر ان تجاویز کو عملی جامہ پہنا کر کراچی کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنائیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں