مدارس کی خدمات نظر انداز اور انہیں دہشت گردی سے منسوب کرنا ناانصافی ہے۔ وزیر اعظم

اسلام آباد(3اکتوبر2018)اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان کے 8 رکنی وفد کی وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات،دینی مدارس بارے جملہ امور پر تبادلہ خیال،مولانا محمد حنیف جالندھری نے 15 نکات پر مشتمل محضرنامہ پیش کیا،وزیراعظم کی طرف سے دینی مدارس کی خدمات اور35 لاکھ بچوں کی تعلیم و کفالت پر خراج تحسین پیش کیا گیا،دینی مدارس بارے اتحاد تنظیمات مدارس کی قیادت کو اعتماد میں لیے بغیر کوئ بھی فیصلہ نہ کرنے کی یقین دہانی،مدارس کے بچوں سے روا رکھی جانے والی ناانصافی اور امتیازی سلوک کے ازالے کے عزم کا اظہار،وفاقی وزیر تعلیم کی سربراہی میں مدارس کے معاملات پر مذاکرات اور کام کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئ،دینی معاملات پر حکومت کی طرف سے وفاقی وزیر مذہبی امور کے علاوہ کسی کو آئندہ بیان جاری کرنے کی اجازت نہیں ہوگی تفصیلات کے مطابق پاکستان کے پانچوں مکاتب فکر کے دینی مدارس کے نمائندہ بورڈز کے اتحاد،اتحاد تنظیمات مدارس کے ایک اعلی سطحی وفد نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے ملاقات کی وفد میں مولانا مفتی منیب الرحمن،مولانا انوار الحق،مولانا محمد حنیف جالندھری،مولانا عبدالمالک،مولاناڈاکٹر یاسین ظفر،مولانا قاضی نیاز حسین نقوی اور مولانا ڈاکٹر عطاء الرحمن شامل تھے جبکہ حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود،وفاقی وزیر مذہبی امور مولانا نور الحق قادری،وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی،وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور نعیم الحق اور سیکرٹری وزارت مذہبی امور بھی موجود تھے-اس موقع پر وزیر اعظم نے گہری دلچسپی سے دینی مدارس کے مسائل سنے اور ان کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کی یقین دہانی کروائ-انہوں نے وفاقی وزیر تعلیم کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جو وفاقی وزیر مذہبی امور مولانا نور الحق قادی کی معاونت سے دینی مدارس کے حوالے سے جملہ حل طلب امور پر کام کرے گی-وزیراعظم نے دینی مدارس کی خدمات اور 35 لاکھ بچوں کی کفالت اور تعلیم کی ذمہ داری نبھانے ہر اتحاد تنظیمات مدارس کے قائدین کو خراج تحسین پیش کیا اور اپنے اس دیرینہ عزم کا اعادہ کیا کہ وہ دینی مدارس کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک اور ماضی میں ہونے والی ناانصافی کی تلافی کریں گے-
اجلاس کے دوران اتحاد تنظیمات مدارس کے جنرل سیکرٹری مولانا مفتی منیب الرحمن نے سابقہ حکومتوں سے ہونے والے مذاکرات اور معاہدوں پر روشنی ڈالی اور ابتدائ اصولی گفتگو کی اور دینی مدارس کے ساتھ معاملات کو درست سمت پر بہتر انداز سے آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا بعدازاں ترجمان اتحاد تنظیمات مدارس اور جنرل سیکرٹری وفاق المدارس العربیہ پاکستان مولانا محمد حنیف جالندھری نے دینی مدارس،مذہبی معاملات اور تعلیمی اصلاحات پر تفصیلی،جامع اور مدلل گفتگو کی-مولانا محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ دینی مدارس کے نمائندہ وفاق، وفاقی سطح پر پورے ملک،آزادکشمیر اور گلگت بلتستان سمیت جملہ امور کا اہتمام کرتے ہیں اس لیے دینی مدارس کے معاملات کو صوبوں کے حوالے نہ کیا جائے بلکہ وفاقی اور مرکزی سطح پر مدارس کے معاملات کو دیکھا جائے-انہوں نے کہا کہ مدارس تعلیمی ادارے ہیں اس لیے ان کے معاملات وزارت تعلیم کے سپرد کیے جائیں-اسی طرح مدارس کی رجسٹریشن پر عائد پابندی ختم کی جائے اور ملک بھر میں مختلف نظام کے تحت رجسٹریشن کرنے کی بجائے یکساں طریقہ کار اور ضابطہ کے مطابق مدارس کی وزارت تعلیم کے ساتھ رجسٹریشن کو آسان بنایا جائے-انہوں نے کہا کہ آئے روز کوائف طلبی کے نام پر مداس کو ہراساں کرنے اور مختلف اداروں کے الگ الگ ڈیٹا فارمز سے دینی مدارس کو نجات دلائ جائے اور ون ونڈو آپریشن کے ذریعے سال میں ایک دفعہ کوائف جمع کیے جائیں-مولانا جالندھری نے کہا کہ یکساں نصاب و نظام تعلیم پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور پہلے مرحلے میں میٹرک تک نہ صرف مدارس اور اسکولوں کا نصاب ایک کیا جائے بلکہ طبقاتی تفریق ختم کرکے ملک بھر میں یکساں نظام تعلیم رائج کیا جائے اور اس سلسلے میں جو ٹاسک فورس تشکیل دی گئ ہے اس میں علماء کو مزید نمائندگی دی جائے-مولانا محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ دنیا بھر کے بچے پاکستانی مدارس میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں یہ پاکستان کے لیے اعزاز ہے اور ایسے بچے پاکستان کے سفیر ہوتے ہیں اس لیے غیر ملکی طلبہ کے ویزوں پر پابندی ختم کرکے ان کے لیے تعلیم کے دروازے کھولے جائیں-مولانا محمد حنیف جالندھری نے بے گناہ اور دینی خدمات میں مصروف عمل علماء کرام کے نام فورتھ شیڈول میں ڈال کر ان سے ظالمانہ سلوک کرنے،دینی مدارس کے قربانی کی کھالیں جمع کرنے پر پابندی اور کھالیں جمع کرنے والوں پر مقدمات،سزاوں اور جرمانے اور بینکوں کی طرف سے مدارس کے اکاونٹ کھولنے پر غیر اعلانیہ پابندی جیسے مسائل پر بہت تفصیل سے روشنی ڈالی اور وزیراعظم کو باور کروایا کہ کیسے فروغ تعلیم اور دینی خدمات کے لیے کوشاں افراد اور اداروں کو پریشان کیا جاتا ہے-مولانا محمد حنیف جالندھری نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ عربی زبان کی تعلیم کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوششوں کا فوری نوٹس لیں،اردو کو صحیح معنوں میں قومی زبان قرار دلوائیں،ناظرہ قرآن کریم اور ترجمہ قرآن کریم کی مرحلہ وار تعلیم کے قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں-مولانا جالندھری نے وزیر اعظم سے کہا کہ وہ اگر دینی مدارس کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو پہلے مرحلے میں مساجد ومدارس کو بجلی اور گیس کے بلوں سے مستثنی قرار دیں اور مدارس کی اسناد کی حیثیت کو صحیح معنوں مین تسلیم کروائیں-اس موقع پر مولانا محمد حنیف جالندھری نے جمعہ کی چھٹی بحال کرنے کا بھی مطالبہ کیا-اس موقع پر مفتی منیب الرحمن نے وزیر اعظم کی توجہ ایک اہم معاملے کی طرف مبذول کروائ کہ وہ اپنے وزراء کو دینی اور مذہبی معاملات میں غیر محتاط گفتگو سے باز رکھیں جس پر وزیر اعظم نے کہا کہ آئندہ صرف مولانا نورالحق قادری ہی دینی معاملات پر کوئ بھی بیان دیں گے ان کے علاوہ کوئ اور وزیر دینی معاملات میں اظہار خیال کے مجازنہیں ہوں گے-مولانا محمد حنیف جالندھری نے وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات تو اگرچہ خوشگوار ماحول میں ہوئ-ہم نے اپنا مقدمہ بھرپور انداز سے پیش کیا اور وزیر اعظم نے ہمارے جملہ مسائل کو حل کرنے کی یقین دہانی کروائ بلکہ انہوں نے تو یہاں تک کہا کہ یہ ملاقات پہلے کی طرح نہیں ہوگی بلکہ آپ تبدیلی خود محسوس کریں گے اس لیے ہمیں اس تبدیلی اور عملدرآمد کا انتظار ہے اور یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ وزیر اعظم اس حوالے سے کیا اقدامات اٹھاتے ہیں اور ان کے نیک ارادوں جن کا انہوں نے اظہار کیا ان پر کس حد تک عملدرآمد ہوتا ہے؟#

اپنا تبصرہ بھیجیں