بات کچھ بے شناخت لوگوں کی

تحریر: کاشف نصیر
آپ نے جس دھرتی میں آنکھ کھولی، جسکی گلی محلوں میں پل بڑھ کر جوان ہوئے اورجسکے دامن میں محنت مشقت کرکے اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ پال رہیں ہیں،اس دھرتی پرآپکا اور اس دھرتی کا آپ پر حق ہے۔ ناصرف دنیا کے تمام مہذب ممالک اس بنیادی فطری اصول کو تسلیم کرتے ہیں بلکہ یورپ تو اپنی سرحدی حدود کے اندر صرف پیدائش کو بھی معیار بنالیتا ہے۔لیکن گلوبل ویلیج کے اس زمانے بہت سے ممالک ایسے بھی ہیں جہاں صدیوں سے جاری اسی فطری عمل پر ” نسلی تعصبات ” اور مخصوص “قومی بیانئے”کو جلاد بناکر دیکر بیٹھادیا گیا ہے۔
اس متعصبانہ طرزعمل کا سب سے زیادہ شکار وہ نوجوان ہوتے ہیں جنکے بزرگ ہجرت کے عمل سے گزرے ہوں۔موت کے خوف ،بہتر رزق کی تلاش اور خوب سے خوب تر کیجستجومیں ہجرت کرنا ایک قدیم راویت ہے، اس روایت کا انکار، دراصل نظام فطرت اور صدیوں کے انسانی تامل سے بغاوت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے تمام رکن ممالک پر لازم کیا کہ وہ موت اور افلاس کے خوف سے نقل مکانی کرنے والے “مہاجرین” کو زبردستی اپنے ملک سے بے دخل نہیں کرسکتے ہیں۔ اس ضمن میں جب ہجرت بذات خود ایک تسلیم شدہ امر ہے، مہاجرین کی دوسری اور تیسری نسلوں کا کیا قصور رہ جاتاہے؟
شہریت سے محرومی کی سب سے بھیانک مثال روہنگیا نسل کے لوگ ہیں، یہ کمیونٹی کم از کم دو صدیوں اور کئی نسلوں سے میانمار کے شمال مشرقی صوبے رخائن میں آباد ہیں مگر میانمار کی حکومت انہیں برمی کے بجائے بنگالی مہاجر اور بنگلہ دیشی حکومت انہیں بنگالی کے بجائے برمی نزادقرار دیتی ہے۔ گوہمارے ملک میں ایسے حالات تو نہیں ہیں مگر یہاں پیدا ہونے والے لاکھوں بنگالی، برمی اور افغان نوجوان جنہوں نے کبھی برما، بنگلادیش یا افغانستان کا نقشہ بھی نہیں دیکھا، کسی بھی ملک کی شہریت سے محروم “ایلین” ہیں جو بہرحال ایک انسانی المیہ ہے۔ یہ لوگ قانونی طور پرنہ کہیں نوکری کرسکتے ہیں نہ کاروبار، نہ بینک اکاونٹ کهول سکتے ہیں اور نہ ہی یوٹی لیٹی اور موبائل سروسز استعمال کرسکتے ہیں۔ان سب سے بڑھکر ان پر اعلی تعلیم کے دروازے بهی بندہیں۔
ہمارے یہاں کم از کم پانچ قسم کے مہاجر موجود ہیں۔ایک جنہوں نے 1947 کے بعد ہندوستان سے ہجرت کی، دوسرے جنہوں نے 1971 کے بعد سابقہ مشرقی پاکستان کو خیرباد کہا ، تیسرے جنہوں نے 1988 کےبعد مقبوضہ کشمیر سے لائن اوف کنڑول کراس کیا،چوتھے جو 1979کے بعد جنگ زدہ افغانستان چھوڑ نے پر مجبور ہوئےاور پانچویں جو بنگلہ دیش، برما اور دوسرے ممالک سے غیرقانونی طور پر پاکستان آئے اور پھر کبھی واپس نہ جاسکے۔ پہلی تین اقسام کے مہاجرین کو ہماری ریاست پاکستانی تسلیم کرتی ہے جبکہ تیسری اور چوتھی قسم پر قانونی ابہام پایا جاتا ہے۔ 1951 کے شہریت کے قوانین کے تحت چوتھی او ر پانچویں اقسام کے مہاجرین کی وہ اولادیں جو پاکستان میں پیدا ہوئی، پاکستانی قرار پاتی ہے مگر اسکے بعد بنائے گئے شہریت کے دوسرے قوانین شناختی کارڈ کیلئےوالد کی پاکستانی شہریت کو لازمی قراردیتی ہیں۔
پاکستانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد ان ایلین کو پاکستان پر بوجھ سمجھتی ہیں۔ یہ گمان سراسر زمینی حقائق سے لاعلمی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔اس مسئلے کو ان خیمہ بستیوں اور کچی آبادیوں کا رخ کئے بغیر سمجھا ہی نہیں جاسکتا ہے، جہاں افغان اور بنگالی ایلین آباد ہیں۔ ایسی ہی سعی میں میری ملاقات اٹھارہ سے بیس بائیس سالہ کئی افغان ایلین سے ہوئی۔ان نوجوانوں سے بات کرکے اندازہ ہوا کہ افغانستان کے بارے میں میری معلومات ان بچوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اپنا گاوں اور علاقہ تو درکنار، انہیں نہ افغانستان کے جھنڈے کا رنگ ، کرنسی کا نام ، ٹی وی ستارے اور ڈیزائن معلوم ہے اور نہ وہاں کے صدر کا کچھ اتا پتہ۔ ان میں سے اکثر کے دادا اور نانا نے ہجرت کی تھی جب کہ ناصرف انکی بلکہ انکے والدین کی پیدائش بھی پاکستان میں ہوئی ہے۔ دوسری طرف پاکستان سے وابستہ ہر چیز سے انہیں واسطہ ہے، یہاں کی جشن آزادی، سیاستدان، کھلاڑی اور ستارے۔
یہ لوگ ہم پر بوجھ بھی نہیں ہیں۔ تمام حقوق سے محرومی کے باوجود آپ ان میں سے کسی بھی شخص کو کبھی بھیک مانگتے نہیں دیکھیں گے۔ انکی غالب اکثریت محنت مزدودی اورمختلف کاروبار کرکے ناصرف اپنی ضرورت پوری کررہی ہے بلکہ ملکی معیشت میں بھی اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ شہریت نہ دیکر ہم نے انہیں خوامخوا ٹیکس نیٹ سے بھی باہر رکھا ہوا ہے۔یہ بھی دلچسپ مزا ق ہےکہ جو لوگ جو افغان اور بنگالی ایلین کی بےدخلی کی حمایت کرتے ہیں، جب خود مہاجر بن کر امریکہ اور یورپ جاتے ہیں تو پانچویں سال ہی پاسپورٹ کیلئے درخواست جمع کروادیتے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ یہ لوگ جی بهر کر افغانیوں اور بنگالیوں کو جرائم پیشہ ثابت کریں اور حب الوطن تسلیم کئے جائیں اور اگر کوئی گورا ایشیائی لوگوں کو کچھ ایسا ہی کہ دے تو وہ نسل پرست گردانا جائے۔
ہجرت کن مضمرات میں ہوئی ، کونسے مہاجر اچھے ہیں اور کونسے مخصوص بیانئے کے سبب مبینہ طور پربرے ہیں اور ہمارے قوانین میں کیا تضاد موجود ہے، اس تمام بحث سے قطع نظر ہمیں یہ جلد یا بدیر یہ حقیقت کو تسلیم کرنی ہوگی کہ ہم شہریت سے محروم ان “ایلین” کو واپس نہیں بھیج سکتےہیں اور بادل نخواستہ اس انسانی مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنا ہوگا۔شہریت دینے میں مسلسل تاخیر خطرناک نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔ایسی صورت میں ہم نے خود لاقانونیت، جرائم اور دہشتگردی کے دروازے کهولا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں