دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ پیغام پاکستان کا اجرا

اسلام آباد (بنوریہ میڈیا )پاکستان کے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علما اور مذہبی شخصیات کی طرف سے متفقہ طور پر ایک فتویٰ جاری کیا گیا ہے جس میں دہشت گردی کو اسلام کے منافی اور طاقت کے زور پر اپنے نظریات مسلط کرنے والوں کو اسلامی تعلیمات کا باغی قرار دیا گیا۔
اس فتوے کا اجرا منگل کو ایوان صدر اسلام آباد میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں کیا گیا اور اسے پیغام پاکستان کا نام دیا گیا ہے۔
یہ فتویٰ سیکڑوں علما اور مذہبی دانشوروں کے دستخط سے جاری کیا گیا جس میں خودکش حملوں، شدت پسندی اور خونریزی کو فساد فی العرض قرار دیتے ہوئے ریاست کے ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کا شریعی حق کو تسلیم کیا گیا۔
1973 کے متفقہ آئین کے بعد ریاست پاکستان کا دوسرا بڑا کارنامہ تصور کیا جارہا ہے، اس کام کے متعلق چند لوگوں کے سوا کسی کو علم نہیں تھالیکن اس مقصدکے لئے کئی ماہ سے خاموش مگر نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ بہت کوششیں کی جارہی تھی ، یہ ایک بظاہر ناممکن کام تھا جسے ممکن بنادیا گیا
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ممنون حسین کا کہنا تھا کہ اس فتوے کو ریاستی اداروں کی تائید حاصل ہے اور یہ درست سمت میں ایک مثبت پیش رفت ہے۔
اس موقع پر وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ ملک میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں جاری ہیں اور پاکستان میں شرپسند عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں۔
“اب قوم میں ایسے افراد کے لیے کوئی جگہ نہیں جو اپنے ذاتی مفادات یا بیمار ذہنیت کی وجہ سے دہشت گردوں کی مختلف طریقوں سے زبانی یا عملی حمایت کرتے ہیں، ایسے افراد کو بھی اب قوم دہشت گردوں کے سہولت کار کی نظر سے دیکھے گی اور ان سے بھی آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔”
انھوں نے فتوے کے تناظر میں پاکستان کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس کی سرزمین کسی بھی وقت کسی بھی طرح کے دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔
دہشت گردی اور انتہا پسندی کے شکار ملک میں اس سے قبل بھی مختلف مکاتب فکر کی طرف سے ایسے فتوے جاری کیے جاتے رہے ہیں لیکن اس بار جاری ہونے والے فتوے کو حکومت قومی بیانیے کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہتی ہے کہ اب اس کا پرچار ضروری ہے تاکہ نہ صرف پاکستان بھر میں بلکہ دنیا میں بھی یہ پیغام واضح انداز میں پہنچ سکے کہ دہشت گردی کا مذہب اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور ایسا کرنے والے اسلام کی روح کے منافی سرگرمی کا ارتکاب کر رہے ہیں۔
تقریب سے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘پیغام پاکستان’ وہ پلیٹ فارم مہیا کرے گا جس پر پوری قوم کو یکجا کیا جا سکے گا اور اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام گلی کوچوں سے یہی بیانیہ جاری ہو۔
یہ ایک ایسا فتوی اور متفقہ اعلامیہ تیار کیا گیاجس پر پاکستان کے تمام مسالک کے تمام قابل ذکر علماکرام نے دستخط کئے ہیں، اس میں حیران کن بات یہ بھی ہے کہ مولانا محمد احمد لدھیانوی اور مولانا امین شہیدی نے مسلک اور فقہ کی ترویج سے متعلق ایک ہی فتوی پر دستخط کئے ہیں، جھنگ اور پارا چنار کے علما کرام دینی حوالوں سے ایک صفحہ پر آگئے ہیں، بریلوی ، دیوبندی، سلفی اور جماعت اسلامی کے علما نے ایک ہی فتوی پر اتفاق کیا
ہے، اس فتوی اور اعلامیہ میں ملک کے تمام مسلک کے قابل ذکر علما کرام نے دور حاضر کے بنیادی سوالوں کے جواب میں مفقہ فتوی دیا ہے
پہلا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اسلامی ریاست ہے یا غیر اسلامی؟ نیز کیا شریعت کو مکمل طور پر نافذ نہ کرسکنے کی بنا پر ملک کو غیر اسلامی ملک اور اس کی حکومت یا افواج کو غیرمسلم قرار دیا جاسکتا ہے؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ حالات میں نفاذ شریعت کی جدوجہد کے نام پر حکومت یا افواج پاکستان کے خلاف مسلح بغاوت جائز ہے؟
تیسرا سوال یہ ہے کہ پاکستان میں نفاذ شریعت کے نام پر خودکش حملے کئے جارہے ہیں ، قرآن و سنت کی روشنی میں ان کا کوئی جواز ہے؟
چوتھا سوال یہ ہے کہ اگر مذکورہ تین سوالات کا جواب نفی میں ہے تو کیا حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کی طرف سے اس بغاوت کو فرو کرنے کے لئے جومسلح کاروائیاں کی جارہی ہیں وہ شریعت کی رو سے جائز ہیں اور کیا مسلمانوں کو ان کی مدد اور حمایت کرنی چاہئے؟
پانچواں سوال یہ ہے کہ ہمارے ملک میں مسلح فرقہ وارانہ تصادم کے بھی بہت سے واقعات ہورہے ہیں جن میں طاقت کے بل پر اپنے نظریات دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کیا اس قسم کی کاروائی جائز ہیں؟
اس فتویٰ اعلامیہ کو پیغام پاکستان کا نام دیا گیا ہے جس کا بنیادی مسودہ ادارہ تحقیقات اسلامی بین الاقوامی یونیورسٹی اسلام آباد نے تیار کیا ہے، بعد ازاں مختلف مکاتب فکر کے جید علماکرام ، مفتیان کرام اور قومی جامعات کے دینی علوم کے اساتذہ کرام سے اس پر نظر ثانی کروائی گئی ہے، بنیادی مسودے کو مختلف مسالک کے جن 39ممتاز علما کرام نے تیار کیا ہے ان کے اسما گرامی یہ ہیں:
مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی ، دارالعلوم کراچی، مولانا مفتی منیب الرحمن چئیرمین رویت ہلال کمیٹی ، مولانا عبد المالک صدر رابطۃ المدارس، مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر ،مولانا محمد حنیف جالندھری،مولانا محمد یٰسین ظفر،علامہ سید ریاض حسین نجفی ،مولانا ڈاکٹر ابولحسن محمد شاہ، مولانا مفتی محمد نعیم ، جامعہ بنوریہ، مولانا سیف اللہ ربانی ، جامعہ بنوریہ ، مولانا محمد افضل حیدری، مولانا مفتی محمودالحسن محمود،مولانا حامد الحق حقانی ،پروفیسر ڈاکٹر معصوم یوسف زئی ، پروفیسر ڈاکٹر محمد یوسف الدرویش،پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیائ الحق،پروفیسر ڈاکٹر سعید الرحمن، پروفیسر ڈاکٹر طاہر حکیم،پروفیسر ڈاکٹر عبد القدوس،ڈاکٹر حافظ آفتاب احمد، ڈاکٹر افتخار الحسن میاں، محمد احمد منیر، سید متین احمد شاہ، مولانا تنویر احمد جلالی، مولانا محمد اسحاق ظفر، مولانا غلام مرتضی ہزاروی، مولانا ڈاکٹر ظفر محمد جلالی، مولانا ابو ظفر سیالوی، مولانا زاہد محمود قاسمی ، مولانا ڈاکٹر سید محمد نجمی، مولانا سید محمد رزاق ، مولانا تنویر احمد علوی،مولانا محمد شریف ہزاروی، ملک مومن حسین قوی، مفتی رحیم اللہ، ڈاکٹر سعید خان ،مولانا سید قطب، مولانا عبد الحق ثانی اور مولانا محمد عبد القادر۔
تیاری کے بعد اس فتوے اور اعلامیہ کو ملک بھر کے مختلف مسالک کے 1829علما کرام کے دستخط کروائے گئے ہیں اور یوں یہ بلا مبالغہ آئین پاکستان کے بعد پاکستانی مسلمانوں کے لئے ایک متفقہ دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے ، اس اعلامیہ اور فتوی کو پیغام پاکستان کے نام سے ایک کتابی شکل دی گئی ہے ، جس کی باقاعدہ تقریب رونمائی آج ایوان صدر اسلام آباد میں صدر مملکت ممنون حسین کے زیر صدارت ہوئی ، اس تقریب میں وفاقی وزرا، سیاسی راہنما، اور ملک بھر سے جید علما کرام شریک ہو کر یکجہتی کا مظاہر ہ کیا




اپنا تبصرہ بھیجیں