ائمہ مساجد کا حکومت سے تنخواہ لے کر کام کرنا

ائمہ مساجد کا حکومت سے تنخواہ لے کر کام کرنا
(محمد مستقیم شاہ)
ھارون الرشید بادشاہ نے ایک مرتبہ جوش میں آکر اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ اگر تم نے آج کی رات میری سلطنت کے اندر گزاری تو تجھے طلاق۔ اب اسکی سلطنت تو کافی بڑی تھی اور رات سے قبل اس سے چونکہ نکلنا ناممکن تھا، لہذا اس کا دوسرے الفاظ میں مطلب یہ ہوتا کہ اسکی بیوی کو طلاق ہوجاتی۔ چنانچہ گھبراہٹ میں اپنے قاضی امام ابو یوسف رح کو مسئلہ دریافت کرنے بلایا۔ امام صحب نے فورا فرمایا کہ اپنی عورت سے کہہ دیں کہ رات مسجد میں گزارے، طلاق نہیں ہوگی۔ ساتھ میں دلیل کے طور ہر یہ آیت تلاوت فرمائی، “وآنّ المساجدٓ للّٰہ فلا تدعوا مع اللہ أحداً”۔ (سورت جن)ترجمہ: اور یقینا مساجد اللہ کے (گھر) ہیں، سو اللہ ساتھ کسی اور کو مت پکارو۔مساجد اللہ کے گھر ہیں، ان پر کسی کی ملکیت نہیں یعنی یہ وقف کے اندر آتی ہیں اور اوقاف کا انتظام اسلامی قانون کے تحت عموماً حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر چہ بعض قانونی و عدالتی فیصلوں میں مسجد کو شخصِ قانونی کا درجہ بھی دیا گیا ہے جیسا کہ ایک انڈین عدالتی فیصلے کے اس متن میں واضح فیصلے میں درج ہے:”It is proved beyond doubt that mosques can and do hold property. There is ample authority for the proposition that a Hindu idol is a juristic person and it seems proper to hold that on the same principle a mosque as an institution should be considered as a juristic person. It was actually so held in 59 P.R., 1914, page 200. and later in 1926, Lahore, 372.”امام کی ملازمت اور تنخواہ کا تعلق چونکہ مسجد سے ہے اور مسجد ظاہر ہے کہ محض ایک عمارت کا نام نہیں ہے بلکہ ایک ایسی عمارت ہے جس کو شرعی اور قانونی حیثیت legal position حاصل ہے جس کا واضح ہونا اس ضمن میں بنیادی نکتہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ مسجد اسکے بنانے والے کی ملکیت سے نکل جاتی ہے اور وہ اسے بیچ بھی نہیں سکتا۔”والمسجد يخرج عن ملك صاحبه ، لأنه وقف ، فلا يجوز له أن يبيعه “۔(الموسوعة الفقهية (37/ 220).لہذا جب مسجد وقف کے تحت اسلامی حکومت کے انتظام میں چلی جاتی ہے تو اب ظاہر ہے اس کے انتظام و انصرام management کی پوری ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوگی۔ مسلمانوں کی تاریخ میں نہ صرف ایسا ہوتا رہاہے بلکہ فقہ (خاص کر حنفی فقہ) کا زیادہ کام بہترین انداز میں حکومت (امیر المؤمنین/بادشاہ) کے تعان سے ہی ممکن ہوا ہے۔ عباسی دور کے خلفاء اس بارے میں خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ أبوجعفر المنصور فقہاء کرام کو خصوصی ھدایا سے نوازتے، خلیفہ مہدی اور اسکے بعد کے دور میں بھی یہی معاملہ رہا، خلیفہ الرشید ہمیشہ امام ابو یوسف رح کو اپنے ساتھ رکھتے، خلیفہ مامون علماء کے ساتھ علمی مباحثوں میں خود شریک ہوتےاور خلقِ قرآن کی بحث میں انکی کافی دلچسپی رہی۔ چنانچہ یہ اسی دور ہی کا کرشمہ تھا کہ امام ابو یوسف رح کی مایہ ناز کتاب الخراج لکھی گئی اور یوں مسلمان حاکم و عالم کے اس تعلق کا ہی اثر تھا کہ فقہ اسلامی صرف ‘مفروضوں’ (hypothesis) کا ایک مجموعہ نہیں رہا بلکہ مسلمانوں کو روزمرہ کے پیش آنے والے اسوقت کے جدید مسائل (challenges) کا حل فقہاء نے بہترین انداز میں پیش کیا اور یوں شریعت اسلامی کی اس مضبوط اکائی نے، جغرافیاتی سرحدوں کی دوری کے باوجود امت کو آپس میں جوڑنے کا ایک مضبوط کارنامہ انجام دیا۔آج کے دور میں بھی ایران، ترکی اور بیشتر عرب دنیا میں مساجد کا انتظام حکومت کے پاس ہے اور ائمہ کو تنخواہ دینے کا عام رواج ہے جس سے معاشرے میں انکو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس سے جہاں ایک طرف یہ حضرات غمِ روزگار سے خلاصی پاکر دین کی خدمت کے لئے یکسو ہونے کے مواقع پاتے ہیں تو دوسری طرف انکے لئے تعلیم کا ایک خاص معیار (standard) بھی مقرر ہوجاتاہے جس سے ان کو گزر کر زمانہ کے ساتھ مثبت انداز میں مناسبت بھی پیدا ہوجاتی ہے اور دین کاکام احسن طریقے سے کرنے کے مواقع بھی میسر آجاتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ ایک اور بہت ہی اہم امر کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتاہوں جس کی وجہ سےماضی قریب میں پاکسانی معاشرےمیں مذھب اور مذہبی طبقہ (مدارس) کی انتہائی بدنامی ہوئی ہے، وہ ہے مذہبی حلقوں میں عدمِ برداشت، عدم تعاون اور بےجا تشدد کا رجحان، جو کہ عام نہ سہی، کسی نہ کسی انداز میں موجود رہاہے، اور جس پر میں سمجھتاہوں کہ ائمۂ مساجد کے تعان ہی سے قابو پایاجاسکتاہے، یہ طریقۂ کار اس ضمن میں ایک انتہائی مثبت پیش ثابت ہوسکتاہے۔علاوہ ازیں جو ائمہ حضرات زیادہ کوالیفیکیشنز اور صلاحیت رکھتے ہیں وہ قاضی وغیرہ کے دوسری اضافی ذمہ داریاں سنبھال کر مزید ترقی کے حقدار بن سکتے ہیں۔ آخر میں عرض کرتاچلوں کہ ائمہ حضرات کا حکومت سے تنخواہ لینے کے معنی یہ ہر گز نہیں کہ گویا وہ وہی کہیں گے جو ان سے کہا جائے گا اور وہ حق بات بول ہی نہیں سکیں گے، اس بات اگرچہ بظاہر کچھ وزن لگتا ہے کہ جہاں سے ‘دانہ پانی’ ملے اس کے خلاف بولنا مشکل ہوجاتاہے، مگر آپ بتادیں کہ کونسی ایسی اچھی بات ہے جو ایک مسلمان عالم دین کہنا چاہے گا اور نہ کہہ سکے گا؟ اور اگر بالفرض وہ مسجد کے اندر ممبر پر کھڑے ہوکر حاکم وقت کے خلاف بات نہ بھی کہیں تو باہر کسی نے اس پر پابندی تو نہیں لگائی ہےکہ استعفیٰ دیکر ‘حق’ بات کا ‘جہاد’ کرتا پھرے۔ علاوہ ازیں میرے خیال میں حکومت اور ارباب اختیار کے خلاف ممبر پر کھڑے ہوکر بات کرنے کے جہاد کا پاکستانی قوم کو اتنا فائدہ ہرگز نہیں ہونا ہے جتنا نقصان اس منصبِ عظیم کے غلط اور نامناسب استعمال سے ہوتارہاہے۔ اور پھر ہم لوگ آخر منفی انداز سے ہی کیوں سوچتے رہتے ہیں؟ اس کے مثبت پہلؤوں پر، جو کہ بے شمار ہوسکتے ہیں، ہم کیوں نہیں سوچتے؟ مثلاً یہ کہ ان ائمۂ مساجد کی بہترین تربیت ہوگی اور یہ حضرات جدید تربیت سے مزین ہوکر مؤثر طریقے سے اسی ممبرِ رسول ﷺ کے ذریعے تمام تر سیاسی و مسلکی تنگ نظریوں سے بالاتر ہوکر اپنا قومی و ملی فریضہ سمجھتے ہوئے پاکستان کے نوجوان کی، جو کہ اکثر بحمد اللہ مسجد جاتا ہے، تربیت کرلے، تو اس قوم کی قسمت بدل سکتی ہے اور یہ خطہ جو اسلام کے نام پر آزادی حاصل کرچکا تھا، آج اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوسکتاہے۔ نوٹ: ہمارے بے شمار ائمہ حضرات پہلے سے ہی (مرحوم جنرل ضیاء کے دور سے) اوقاف کی مساجد اور فوج میں وفاق سے تنخواہ وصول کرتے ہیں، اسی طرح سوات میں والی کی طرف سے بھی یہ سلسلہ چلتا رہا، تو میرے خیال میں نہ یہ کوئی نئی چیز ہے اور نہ اس میں کوئی بڑی بات ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں