‌ ائمہ مساجد کو سرکاری تنخواہیں لینی چاہئے؟

‌ ائمہ مساجد کو سرکاری تنخواہیں لینی چاہئے؟
کارزار/ انور غازی

خیبر پختونخوا حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ تمام ائمہ مساجد کو باقاعدہ تنخواہ دے گی ۔منصوبے کے مطابق پہلے تمام مساجد کا سروے کیا جائے گا اور یہ دیکھا جائے گا کہ کون سی مساجد رجسٹر ڈہیں اور کون سی مساجد رجسٹر ڈنہیں ہیں۔ جو مساجد رجسٹر ڈنہیں ہیں ائمہ کو مساجد رجسٹر ڈکروانے کی ہدایت کی جائیں گی۔ اس کے بعد تمام ائمہ کرام کا ڈیٹا جمع کیا جائے گا۔ ڈیٹا جمع کرنے کے بعد ان کی دینی تعلیم، عصری تعلیم اور دیگر قابلیت دیکھی جائیں گی، اس کے مطابق اسکیل بنائے جائیں گے۔ جب اسکیل بن جائیں گے تو جس طرح سرکاری محکمے میں کام کرنے والے ملازمین کو تنخواہیں دی جاتی ہیں، ان کو سہولیات دی جاتی ہیں، ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن دی جاتی ہیں، اسی طرح ائمہ کرام کو بھی اسکیل کے اعتبار سے تنخواہیں، پنشن اور دیگر مراعات ملیں گی۔ سب سے پہلے یہ کام شہروں میں کیا جائے اور پھر آہستہ آہستہ دیہات کی مساجد میں بھی کریں گے۔ شہروں میں سب سے پہلے یہ کام پشاور میں کیا جائے گا۔ پشاور میں بھی اس کام کا آغاز ان مساجد سے کریں گے جو مساجد رجسٹر ہیں۔ اس کے بعد قدم بقدم آگے بڑھتے چلے جائیں گے۔تازہ رپورٹوں کے مطابق خیبر پختونخوا میں تمام مساجد کا ڈیٹا جمع کرنے اور ان میں تعلیم یافتہ امام یا اساتذہ تعینات کرنے کے لیے اقدامات شروع کردیئے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنر ز کو خطوط لکھے گئے ہیں۔ صوبائی وزیر مذہبی امور نے بتایا کہ یہ اقدامات وزیراعلیٰ کے نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہونے والے اجلاس میں جاری احکامات پر کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختون پرویز خٹک کی ہدایات کے مطابق تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو خطوط لکھ کر مساجد کا ڈیٹا جمع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس کام کے لئے 20 دن کا وقت دیا گیا ہے اور اس کے لیے یونین کونسلز کے ذریعے تمام مساجد کا ڈیٹا جمع کیا جا ئے گا۔ اب تک یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ تعلیم یافتہ امام یا اساتذہ کا معیارِ تعلیم، کوائف ، اور طریقہ کار کیا ہو گا اس پر مزید بات چیت ہو رہی ہے۔معلومات کے مطابق وزیراعلیٰ نے سیکریٹری اوقات کو احکامات جاری کیے ہیں، جنہوں نے اس پر فوری طور پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ پس منظر کے طور پر یاد رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے نیکٹا کے اعلیٰ حکام کے ساتھ منعقدہ ایک اجلاس میں سیکریٹری اوقاف سے کہا تھا کہ صوبے میں تمام مساجد کا ریکارڈز جمع کیا جائے تاکہ ان میں سرکاری امام یا اساتذہ تعینات کیے جا سکیں۔اجلاس میں نیکٹا کے کوآرڈینیٹر نے انتہا پسندی کے خاتمے اور اس سلسلے میں صوبوں کے کردار اور ضروری اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دی تھی۔ دوسری جانب سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مساجد سے مراد سرکاری، غیر سرکاری اور تمام مسالک کی مساجد شامل ہیں۔

اس معاملے اور مسئلے میں کئی ایک پہلو ہیں۔ ایک پہلو ائمہ مساجد کا ہے جو ان کی کسمپرسی، غربت، فقر و فاقہ اور مشکلات اتنی زیادہ ہیں کہ نہ تو ان مشکلات کے حوالے سے اہلِ محلہ کو کوئی توجہ ہوتی ہے اور نہ دوسرے لوگوں کو اس کی فکر ہوتی ہے کہ ایک امام جس کے اتنے بچے ہوں، اور وہ اتنی زبردست سخت ڈیوٹی دیتا ہو، اس کے لیے وہ کیا دے رہے ہیں؟ اس کے لیے موجودہ جتنی سہولیات ان کو دی جاتی ہیں ان کو سن کر شرم آتی ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ ان کی ناگفتہ بہ صورت حال کو دیکھ کر یہ سب کچھ سہولیات ان کو دینی چاہیے۔تیسرا پہلو یہ ہے کہ حکومت، سیاسی اور دوسرے لوگوں کی طرف سے لوگوں کو بلیک میل یا اپنی حمایت پیدا کرنے کے لیے، دوسروں کو نقصان پہنچانے کے لیے جو ہتھکنڈے اختیار کیے جاتے ہیں، وہ سب چیزیں سامنے ہیں کہ ایسے احتمالات ان چیزوں میں ہوتے ہیں۔ دونوں پہلوؤں کو سامنے رکھ کر ائمہ مساجد کی مشکلات جو واقعی حقیقی مشکلات ہیں، ان کا بھی مداوا اور اِزالہ ہو، اور جو غلط سازشیں اور حرکتیں و منصوبے ہیں، ان فتنوں سے بھی یہ لوگ بچے رہے ہیں۔ ان دونوں کا حل اس میں ہے کہ اس کا فیصلہ انفرادی یا سیاسی طور پر نہ کیا جائے، بلکہ اس کے فیصلے کے لیے اکابر علماءکی دس بڑے حضرات پر مشتمل ایک جماعت ہو جن کی ذمے داری اور قیادت حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمان وغیرہ فرمائیں۔ یہ دس حضرات ان سب کے پہلوؤں کا اچھی طرح جائزہ لے کر فیصلہ کرکے بتائیں کہ یہ مراعات لینی ہیں یا نہیں ؟؟اس قسم کے امور میں کسی ایک ہی پہلو کو اختیار کرنے کے بجائے اجتماعی طور پر اس کا فیصلہ ہونا چاہیے۔ وفد اور جماعت میں بھی ایسے حضرات ہوں جو نہ سیاست میں اپنا اثرو رسوخ رکھتے ہوں کہ ان کا فیصلہ سیاسی ہوگا اور نہ ان میں ایسی کوئی بات ہو کہ وہ لوگوں کی مشکلات کو نظرانداز کریں۔ اگر واقعتا مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو یہ احساس ہے اور ہونا بھی چاہیے، اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ جیسے حکومت نے قانون بنایا ہوا ہے کہ کسی بھی ملازم کی تنخواہ پندرہ ہزار سے کم نہیں ہوگی تو ائمہ مساجد کے لیے بھی کم از کم 15000پے اسکیل مقرر کردیا جائے۔ حکومت قانونی طور پر اس کا فیصلہ بھی کردے تو ان کو فائدہ پہنچانے کا ایک یہ بھی طریقہ ہوسکتا ہے، مگر سیاسی فیصلے کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ جیسے ہی حکومت تبدیل ہوتی ہے تو فیصلہ بھی تبدیل کردیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات ہوں گی، لوگ مجبور ہوں گے، اس لیے اس میں حکومتوں کی طرف سے ایک بات یہ بھی ہے کہ علمائے کرام پر اثرانداز ہونے اور علماءکو پریشان کرنے کے مواقع مل جائیں گے۔ اس میں علماءاور ائمہ مساجد کا اپنا نظم وضبط بھی اتنا مضبوط ہونا چاہیے کہ کسی کے فیصلے اورکسی کی پالیسی سے دین، ایمان اور علماءکی دینی خدمات میں کوئی فرق نہ آئے۔اس کی ترتیب بھی اچھی ہونی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں