پروٹیکشن آف منارٹی بل پاس کرنے والے تمام ممبران نااہل ہو چکے ہیں۔قاری حنیف جالندھری

کراچی (بنوریہ میڈیا) سندھ اسمبلی میں منظور ہونے والے پروٹیکشن آف منارٹی بل سے متعلق گزشتہ روز جمعیت علمائے اسلام کے تحت کراچی پریس کلب میں آل پارٹیزکانفرنس سے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ منیارٹی بل قرآن و سنت‘شریعت‘آئین‘عقل و دانش کے بھی خلاف ہے‘جبکہ یہ بل اپنے عنوان کے بھی خلاف ہے ا‘سلام جبر کا قائل نہیں لیکن جہاں اسلام جبرا قبول کرنا شریعت کے خلاف ہے وہاں کسی کو اسلام قبول کرنے سے جبرا روکنا بھی یہ بھی خلاف آئین و شریعت ہے۔بل میں شامل اکیس روز تک سیف ہاؤس میں رکھنے کی شق کا مطلب یہ کے کہ نو مسلم کو این جی اوز کے حوالے کیا جائے گا اور اسے اسلام کے خلاف لٹریچر دیا جائے گا تاکہ وہ کسی بھی صورت میں مسلمان نہ ہوسکے۔بل پاس کرنے والے تمام ممبران اسبلی نااہل ہو چکے ہیں وہ اپنے ایمان کی تجدید کریں الیکشن کمیشن نئے انتخابات کا اعلان کرے اور ممبران اسمبلی کے لئے دین اسلام کا علم لازمی قرار دے تاکہ ایسی کوئی بھی قانون سازی کرنے سے پہلے انہیں دین کا بنیادی علم ہو۔اس موقع پر قاری محمد حنیف جالندھری نے حکومت کی جانب سے مدارس کے حوالے سے نئے قانون سازی کے اعلان کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے قانون موجود ہیں تو نئے قانون سازی کا کیا مطلب ؟ ان کا کہنا تھا کہ مدارس کے حوالے قانون سازی پہلے ہوچکی ہے ہم نئے کسی قانون کو تسلیم نہیں کریں گے، نیشنل ایکشن پلان کا مطلب گورنمنٹ آج تک سمجھ ہی نہیں سکی ہم انہیں بتائیں گے کہ نیشنل ایکشن پلان کا مطلب کیا ہے۔
قاری محمد حنیف جالندھری نے وزیر اعظم کی جانب سے قائد اعظم یونیورسٹی کے نیشنل سینٹر آف فزکس کو ڈاکٹر عبد السلام کے نام سے منسوب کیے جانے کے جاری نوٹس کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم یونیورسٹی کےنیشنل سینٹر آف فزکس کو قادیانی نواز ڈاکٹر عبد السلام کے بجائے محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر کے نام کیا جائے جن وطن عزیز کے لئے دی گئی خدمات کی پوری قوم معترف ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں