سندھ اسمبلی سے قبول اسلام کے حوالے سے پاس کیا گیا بل غیرآئینی اور غیر اسلامی ہے۔قائدین وفاق المدارس

کراچی( میڈیا سینٹر وفاق المدارس )سندھ اسمبلی سے قبول اسلام کے حوالے سے پاس کیا گیا بل غیرآئینی اور غیر اسلامی ہے،سندھ حکومت کی طرف سے قبول اسلام کے راستے میں روڑے اٹکانے کی کوشش قابل مذمت اور افسوسناک ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کے قائدین سندھ حکومت کی اسلام مخالف پالیسیوں اور سرگرمیوں کا نوٹس لیں،ظلم وجبر سے اسلام کا راستہ روکنے کی کوشش کالا قانون ہے اسے فی الفور واپس لیا جائے،ہندوں کے چند ووٹوں کے لالچ میں آئین پاکستان کے منافی قانون سازی حیران کن اور مضحکہ خیز ہے ان خیالات کا اظہار وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے قائدین شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان،مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر،مولانا محمدحنیف جالندھری اور مولانا انوار الحق نے سندھ اسمبلی سے قبول اسلام کے حوالے سے منظور کیے گئے بل پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کیا-وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے قائدین نے اس بل کو غیر اسلامی اور غیر آئینی قرار دیا اور سخت الفاظ میں اس کی مذمت کی، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے قائدین نے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ سندھ حکومت کی اسلام مخالف پالیسیوں اور سرگرمیوں کا فوری نوٹس لے-وفاق المدارس کے قائدین نے کہا کہ اس بل میں 21 روز تک قبول اسلام کا اعلان نہ کرنے کا پابند بنا کر جبر و تشدد کا راستہ کھولنے کی کوشش کی گئ ہے تاکہ اسلام قبول کرنے والے فرد کو ان دنوں میں ہراساں کر کے اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کیا جا سکے-وفاق المدارس کے قائدین نے کہا کہ اس بل کے نتیجے میں اپنی رضا و رغبت سے اسلام قبول کرنے والے خاندانوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان کے بچے 18 سال کی عمر تک پہنچنے سے قبل غیر مسلم ہی تصور کیے جائیں گے-وفاق المدارس کے قائدین نے کہا کہ کئ بچے بچیاں اٹھارہ سال سے کم عمر میں بالغ ہو جاتے ہیں انہیں بلوغت کے باوجود قبولیت اسلام سے روکنا کالا قانون ہے جسے فی الفور واپس لیا جائے-

اپنا تبصرہ بھیجیں