دینی و سیاسی جماعتیں اس شرمناک قانون کو منسوخ کروانے کے لئے اپنا دینی فریضہ ادا کریں۔مفتی تقی عثمانی

دینی و سیاسی جماعتیں اس شرمناک قانون کو منسوخ کروانے کے لئے اپنا دینی فریضہ ادا کریں۔مفتی تقی عثمانی
(کراچی/ بنوریہ میڈیا )معروف عالم دین جسٹس ریٹائرڈ مفتی تقی عثمانی نے سندھ اسمبلی میں اقلیتوں کے قانونی حقوق کے تحفظ کے نام پر کرمنل لاء پروٹیکشن آف منارٹی بل کی منظوری پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام لانے پر پابندی کا یہ قانون شریعت اسلامیہ اور عدل و انصاف کے تمام تقاضوں کو پامال کرنے کے مرادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قرآن کریم کی رو سے کسی کو زبردستی مسلمان بنانا ہر گز جائز نہیں ہے، اور اس پر پابندی حق بجانب ہے، لیکن دوسری طرف برضا و رغبت اسلام لانے پر پابندی لگا کر کسی کو دوسرے مذہب پر باقی رہنے کے لئے مجبور کرنا بدترین زبردستی ہے جس کا نہ شریعت میں کوئی جواز ہے ، نہ عدل و انصاف کی رو سے اسکی کوئی گنجائش ہے۔ اسلام کی رو سے اگر کوئی سمجھدار بچہ جو دین و مذہب کو سمجھتا ہو ، اسلام لے آئے، تو اسکے ساتھ مسلمانوں جیسا سلوک کرنے کا حکم ہے۔ نیز اسلامی شریعت کی رو سے بچہ پندرہ سال کی عمر میں ، بلکہ بعض اوقات اس سے پہلے بھی بالغ ہوسکتا ہے۔ ایسی صورت میں جبکہ وہ بالغ ہو کر شرعی احکام کا مکلف ہو چکاہے ، اسے اسلام قبول کرنے سے تین سال تک روکنا سراسر ظلم اور بدترین زبردستی ہے۔ اس قسم کی زبردستی کا قانون غالبا کسی سیکولر ملک میں بھی موجود نہیں ہوگا، چہ جائیکہ ایک اسلامی جمہوریہ میں اسکو روا رکھا جائے۔ نیز اٹھارہ سال کے بعد اسلام قبول کرنے کے لئے اکیس دن کی مہلت دینا بھی ناقبل فہم ہے۔ کیا اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس مدت میں اسکے اہل خاندان اسے دھمکا کر اسلام لانے سے روکنے میں کامیاب ہوسکیں ؟ پھر سوال یہ ہے کہ اگر دو میاں بیوی قانون کے مطابق اسلام لے آئیں، تو کیا اس قانون کا یہ مطلب نہیں ہوگا کہ انکے بچے اٹھارہ سال کی عمر تک غیر مسلم ہی تصور کئے جائینگے، کیونکہ انہیں اس عمر سے پہلے اسلام لانے کی اجازت نہیں ہے؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ قانون اسکے تمام مضمرات پر غور کئے بغیر محض غیر مسلموںکو خوش کرنے کے لئے نافذ کیا گیاہے۔ میں عام مسلمانوں ، دینی اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتاہوں کہ اس شرمناک قانون کو منسوخ کروانے کے لئے اپنا دینی فریضہ ادا کریں۔وفاقی شریعت عدالت سے بھی مطالبہ ہے کہ اسے از خود نوٹس لے کر کسی قانون کا قرآن و سنت کی روشنی میں جائزہ لینے کا جو اختیار حاصل ہے، اس قانون کے بارے میں اپنے اس اختیار کو استعمال کرکے اسے غیر موثر قرار دے۔

taqi-usmani

اپنا تبصرہ بھیجیں