کیا کینسرواقعی کاروبار ہے؟

کیا کینسر واقعی کاروبار ہے؟
تحریر: مزمل شیخ بسمل

(گزشتہ روز بنوریہ میڈیا پر کینسر بیماری نہیں‌بلکہ کاروبار کے موضوع پر ایک تحریر پوسٹ کی گئی، وہ تحریر بنوریہ میڈیا کی نا سوچ تھی نا ہی موقف بلکہ ڈاکٹر جوش ایکس کی انگلش تحریر کا اردو ترجمہ تھا جسے من و عن ویب سائٹ کے سورس کے ساتھ شائع کیا گیا تھا،لہذا اس تحریر کی رد میں‌مزمل شیخ بسمل کی تحریر بھی یہاں‌پوسٹ کی جارہی ہے، جس سے یقینا بہت سی غلط فہمیاں‌دور کی جاسکتی ہے)

بہت سے احباب نے انباکس میں اوپر تلے ایک ویب سائٹ (نیوز ریسکیو) کے مضمون کی طرف توجہ دلائی ہے جس کے بقول کینسر کوئی مرض نہیں صرف کاروبار ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق کینسر کوئی بیماری نہیں بلکہ ایک وٹامن (وٹامن بی 17) کی کمی کے باعث ہونے والی ایک کنڈیشن ہے۔ اس حوالے سے میری رائے مانگی ہے جو آپ کے سامنے بھی پیش کر رہا ہوں۔

امگڈلن یا جسے یہ حضرات وٹامن بی 17 کہہ رہے ہیں اس کے بارے میں پہلے تو یہ سمجھ لیجیے کہ یہ کوئی وٹامن نہیں ہے۔ سائنس کا کوئی بھی معتبر اور مستند تحقیقی مقالہ اس بات کو اب تک سپورٹ نہیں کرتا کہ آپ روایتی طریقۂ علاج کو چھوڑ کر اس پر انحصار کر سکتے ہیں۔ اور جس چیز پر کوئی معتبر تحقیق ہی موجود نہیں ہے اسے سائنس کا نام دینا یا سائنسی طریقۂ علاج کہنا ممکن نہیں ہے۔ ایسے طریقے سائنس کی زبان میں متبادل طریقۂ علاج (Alternative medicines) کہلاتے ہیں۔ تاہم امگڈلن میں پائے جانے والے دوسرے مادے (جیسے cyanide) زہریلے بھی ہیں۔ جس وجہ سے فائدے کی تو گارنٹی نہیں البتہ ایسی چیزیں آپ کو کوئی بڑا نقصان ضرور پہنچا سکتی ہیں۔
زیادہ تر ویب سائٹس یا میگزین جو امگڈلن (وٹامن بی 17) کے حق میں باتیں کر رہے ہیں وہ اکثر ایسے مشاہدات پیش کر رہے ہیں جو کہ قصہ یا کہانی ہیں۔ جن کی صداقت کا کوئی معتبر ثبوت سامنے نہیں ہے۔ جبکہ کلینکل حیثیت میں کینسر کے لیے کسی علاج کا مؤثر ہونا ان باتوں سے ثابت نہیں ہوتا۔
امگڈلن پر صرف ایک ہی سٹڈی ہوئی تھی 1978 میں جس میں اس کے مثبت نتائج کا دعوی کیا گیا تھا۔ تاہم اس کے بعد اس پر مزید تحقیقات کا کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آسکا۔
.
گزارش یہ ہے کہ ان سازشی تھیوریوں کو سب سے پہلے اپنے دماغ سے نکال دیجیے۔ کینسر سے جس طرح ایک عام آدمی مر سکتا ہے، اسی طرح ایک ڈاکٹر یا ایک ملک کا صدر بھی مر سکتا ہے۔ اور بہتر یہی ہے کہ خود ساختہ علاج معالجوں یا سنی سنائی باتوں پر عمل کرکے نقصان نہ اٹھائیں۔ بلکہ اس طریقۂ علاج کو اپنائیں جو ثابت شدہ ہے۔ انٹرنیٹ پر پایا جانے والا مواد جتنی مقدار میں معتبر ہے، اس سے کہیں زیادہ مقدار غیر معتبر اور من گھڑت مواد کی بھی یہیں پائی جاتی ہے۔
.
یاد رکھیں! سائنس کسی ایک ڈاکٹر یا کسی ایک سائنس دان کے قول کا نام نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ مشترکہ تحقیقات سے تشکیل پانے والے اصولوں کا نام ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں