اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی کے پوتے کی اتحاد امت کے لئے دارالعلوم دیوبند آمد

انڈیا (ممبئی اردو نیوز) ہم ملت کے حق میں کبھی بھی تفرقہ کاشکار نہیں ہونگے،
بریلوی اوردیوبندی کے نام پرہمیں کوئی لڑا نہیں سکتا،
دہشت گردی پوری دنیا کے لئے ایک لعنت اور ہے.کوئی بھی مسلمان آتنک وادی ہرگزنہیں ہوسکتا،پوری دنیا میں مسلمانوں کےخلاف ایک منظم سازش چل رہی ہے، آر.ایس.
ایس کی ذھنیت والے افسران علماء وزعماء قوم کو آتنکی گردان کر مسلمان اور اسلام کو بدنام کرنا چاہتے ہیں،جب ہمارے قائدین ملت دہشت گردی سے نفرت کرتے ہیں،تو ہم اپنے بچوں کوکیسے دہشت گردی کےلئے چھوڑ سکتے ہیں،
ان خیالات کا اظہار دارالعلوم دیوبند کے مہمان خانہ میں تشریف لائے نبیرہ امام اہل سنت مولانا توقیر رضا خان نےدارالعلوم دیوبند کےمہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی سے ملاقات کے بعدصحافیوں کےسامنے کیا،انہوں نے کہا کہ دیوبند آنے کامقصد صرف اور صرف یہ ھیکہ عقائد میں اختلاف کے باوجود ہم سارے مسلمان سیکولرزم اور جمہوریت کے محافظ ہیں.
دیوبندی اور بریلوی سب مل کرملک کی ایکتااوراکھنڈتا کی حفاظت کرینگے،عقائد میں سمجھوتا نا کرکےبھی ہم ملک وملت کے لئےسارےمسلمان بلاتفریق مسلک کل بھی ایک تھے آج بھی ایک ہیں،انہوں نے دارالعلوم دیوبند کےمہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی سےگزارش کی کہ ملت اسلامیہ ھند کے لئے ہم سب ایک ہیں، بریلوی یادیوبندی کے نام پرہم آپس میں لڑکر دوسروں کو ہمارے اتحاد میں سیندھ لگانےنہیں دیں گے.
انہوں نے کہا کہ مسلم نوجوانوں کوحکومتی اہلکار اور تفتیشی ایجینسیاں جس طرح سے بغیر کسی ثبوت کے پابند سلاسل کررہی ہیں،ہم سب اس کے خلاف ہمہ وقت سینہ سپرہیں،شاکر اور اس جیسےجتنے بھی بےگناہ گرفتار کئےگئےہیں وہ سب میرے اور
ہمارےبچےہیں،اور میں اس یقین کے ساتھ ہی دیوبند شاکر کے والدہ سے ملنے آیا ہوں کہ شاکر بالکل بےقصور ہے،اسے جلد ازجلد رہا کیا جائے، انہوں نے کہا کہ میں ذاتی طور پرآسرائے اسیران ملت مولانا ارشد مدنی کا ملت کی جانب سے شکریہ ادا کرتا ہوں،اور انہیں سلام کرتا ہوں کہ وہ تن تنہاملت کی مسیحائی اور
آسرائی بحسن و خوبی کررہےہیں،انہوں نے مہتمم دارالعلوم دیوبند سےکہاکہ ملت اور علماء و زعماء قوم کے مسائل پر جب بھی آنچ آئےگی ہم دوڑ کر آپ کے پاس آئینگے اورمل کرظلم کےخلاف میدان میں کودینگے،
مفتی ابوالقاسم نعمانی مہتمم دارالعلوم دیوبندنےاس تاریخی موقع پر مولانا توقیر رضا صاحب کاشکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ دارالعلوم دیوبند ہمیشہ سے دہشت گردی کے خلاف جد وجہدکرتا آیا ہے،۲۰۰۸جب میڈیا اوربھگواافسران اسلام کو آرتنک کا مذھب اور مسلمانوں کوآتنک وادثابتکرنےکےلئےایڑی چوٹی کازور لگارہے تھے تب دارالعلوم کے پلیٹ فارم سے ہی اکابرین دیوبندنےبلاتفریق مسلک ایک عہد آفریں دہشت گردی مخالف کانفرنس بلائی جس نے بین الاقوامی میڈیا کارخ بدل دیا،اور آج بھی ہم اسی طرح آتنک وادکےخلاف لڑرہےہیں،فرضی طور پر جس طرح سے ہمارے بچوں کو گرفتار کرکے زدو کوب کیا جارہا ہے،ہم دیوبند و بریلوی مسلک کے نمائندےایک آواز میں حکومت ھندسےمطالبہ کرتے ہیں کہ انصاف کے اس دوہرے رویہ کو بندکرکےاپنے بےمہار افسران پرقدغن لگائیں،
نیز مہتمم دارالعلوم نے یہ بھی کہا کہ علمائے امت و دانشوران قوم ہی اس وقت امت کی نمائندگی اور راہ نمائی کررہےہیں،قوم کو ان پر اعتماد کرناچاہئے، توقیر رضا صاحب نےصحافیوں کے سوالوں کے جواب میں کہاکہ ہم مسلمان امن پسند،سیکولر لوگ ہیں ہم بھونڈی زبان کا استعمال کرنا نہیں چاہتے،ہمارے بچوں کو ہم جانتے ہیں کہ وہ ہرگز اس لعنت میں نہیں پڑسکتے،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شراب ام الخبائث ہے اترپردیش ایک تیرتھ استھان یعنی مذھبی مقام ہے،کاشی رشی متھرا،دیوبند اور بریلی سب بین الاقوامی مذھبی مقامات ہیں،لہذا یہاں حکومت کو شراب پر پابندی لگانی چاہئے،صوفی کانفرنس کے نام پر مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کرنے کی ناپاک کوشش پر اس عظیم رہنما کی جانب سے مخالفت اورفتوی دینے پردارالعلوم کے میڈیا انچارج اشرف عثمانی نے دارالعلوم کی جانب سے ان کاشکریہ اداکیا،دارالعلوم کے مہمان خانہ میں اس تاریخی لمحے کے گواہ بننے والوں کے آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلک رہے تھے،قبل ازاں محروس شاکر کی والدہ سے ملاقات کے بعد دارالعلوم آمد پراشرف عثمانی، مھدی حسن عینی،اخترقاسمی، شاھد قاسمی،اسعد قاسمی سمیت ایک اژدحام نے اس موقر وفد اور مولاناتوقیر رضا کا پرتپاک خیر مقدم کیا،
بعدہ دیوبند رکن اسمبلی معاویہ علی کے اصرار پر مولانا ان کے گھر تشریف لےگئے،جہاں معاویہ علی کے والد چراغ علی سمیت حیدر علی،فہیم عثمانی،معین صدیقی، جنید کاظمی،معین قاسمی،سفیان احمد،اسلم کاظمی سمیت شہر کے موقر افراد سے ملاقات ہوئی،مھدی حسن عینی نے یہاں مولانا توقیر رضاخان کا اس تاریخی اقدام پرشکریہ اداکیااور ان کے سامنے طلبہ مدارس اسلامیہ کی جانب سے چند معروضات رکھیں،مھدی حسن عینی قاسمی نے کہاکہ آج ملت تین طرح کے انتشار کاشکار ہے،مسلکی انتشار،ملی انتشار،سیاسی انتشار،
“مسلکی انتشار” کو فیمابین العبد و بین اللہ پر چھوردینا چاہئے،البتہ احیائے کتاب و سنت،تحفظ مدارس و مساجد،خانقاہ واوقاف، مسلم پرسنل لاء اور دفاع ظلم جیسےمشرکہ ملی مسائل پر
سبھی قائدین ملت کو بلاتفریق مسلک ایک پلیٹ فارم پر
آکرآوازاٹھانااورعملی اقدام کرناچاہئے،سیاسی انتشار کے خاتمہ کےلئے مل کر لائحہ عمل مرتب کرکے کام کرناچاہئے،اور بغیر روڈمیپ کے بڑے بڑے کانفرنس ناکرکے قوم کے خون پسینہ کی کمائی کو ان کی تعلیمی و اقتصادی ترقی پر خرچ کرنا چاہئے،مولانا توقیر رضا نے ان تمام معروضات کو ناصرف قبول کیا بلکہ اتحاد ملت کےلئے ہمہ وقت ہمہ جہت عملی اقدام کی یقین دہانی کروائی،بعدہ مولانا اپنے وفد کے ساتھ آستانہ قاسمی تشریف لےگئے،جہاں مولانا سفیان صاحب قاسمی اور مولانا
شکیب قاسمی نےان کاپرتپاک استقبال کیا،توقیر رضا صاحب نے حضرت مولانا سالم صاحب قاسمی سے دعا اور سرپرستی کی درخواست کی،آستانہ قاسمی سےواپسی کے بعد مولانانےوفد سمیت دارالعلوم دیوبند کی زیارت کی،اس تاریخی و یادگارلمحےکو
منصہ شہود پر لانے میں ڈاکٹر جرارقاسمی،معروف صحافی خورشید ربانی صاحب،مولانا قاری شفیق الرحمان قاسمی میرٹھی،کیفی احمد، محبوب عالم،پرویز عالم،مفتی سلیم،قاری عفان قاسمی،مولوی حسان قاسمی،قاری ساجد قاسمی وغیرہ نے رات دن محنت کی اور ان سب کے انتھک محنت و کاوش کے نتیجہ میں آج ملت اسلامیہ کو یہ نوید ملی کہ
دیوبند کا ہر ہرذرہ یہی کہہ رہاتھا……..
ائےارض وطن سر اونچاکر دیکھ یہ مہماں آئے ہیں
ملت کے بہی خواہ آئے ہیں
امت کے نگہباں آئے ہیں
رومی کی عبا رازی کی قبا دستارغزالی کی سج دھج
ڈالے ہوے کاندھے یہ بوذروسلماں آئے ہیں
کوثر سے دھلے الفاظ ملے تو ان کاتعارف پیش کروں
زمزم سے زباں کو دھولاؤں کہ سرچشمہءعرفاں آئے ہیں
اللہ تعالی مولانامفتی ابوالقاسم نعمانی اور مولانا توقیر رضاخان صاحب کے اس تاریخی پہل کو ملت اسلامیہ ھند و وطن عزیز کے لئے ذریعہ رحمت بنائے،ملت محمدیہ کو ملت متحدہ بنائے،جیلوں میں بند بےقصوروں کی رہائی کاسبب بنائے،دونوں عالمی راہنماؤوں کواور اس تاریخی سنگ میل کو حاسدین کے حسد سے محفوظ رکھے،دونوں کی عمر میں برکت دے،

brelvi1

brelvi2

brelvi3

اپنا تبصرہ بھیجیں