بحرین حکومت کا مولانا فضل الرحمن کے لئے خصوصی ایوارڈ برائے امن

بنوریہ میڈیا: (ویب ڈیسک) جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو دنیا میں امن و امان کے قیام کے لئے کی گئی خدمات پر مملکت بحرین کی جانب سے خصوصی ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ مرکزعیسی ثقافی (المنامی) بحرین میں منعقدہ عالمی الامن والتعایش کانفرنس میں خلیجی ممالک اور عالمی حالات پر مولانا فضل الرحمن نے دنیا بھر کے مند وبین سے خصوصی خطاب بھی کیا ۔قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کو بحرین حکومت اور وزارت مذہبی امور کے زیر اہتمام بین الاقوامی امن کانفرنس میں خصوصی مدعو طور پرکیا گیاتھاجس میں سینکڑوں پاکستانیوں سمیت مختلف ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی الامن والتعایش کانفرنس میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو دنیا میں امن و امان کے قیام کے لئے کی گئی خدمات پر مملکت بحرین کی جانب سے خصوصی ایوارڈ سے نوازا گیا اس موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آج امت مسلمہ کو باہمی وحدت واخوت کی اشد ضرورت ہے ۔مملکت بحرین اور اس کی قیادت اور جمعیت طائف نے امت کی وحدت کی اہمیت کو سمجھ کر اس اجتماع کا اہتمام کیا ،اس حوالے سے مملکت بحرین کی قیادت اور جمعیت طائف کے تمام ذمہ داران کا مشکور ہوں جہنوں نے آج بحرین کی سرزمین مجھے یہاں کے معززین ور اپنے ہم وطنوں کے مشترکہ اجتماع سے خطاب کا موقع عنایت فرمایا۔انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ دین اسلام پوری انسانیت کے لئے اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے رب العالمین نے جناب رسول اللہﷺ کو رحمت العالمین بنا کر بھیجا ابنیاء اکرام علیہ اسلام اپنی خاص قوموں خاص علاقوں اور خاص زمانوں کے لئے آتے رہے لیکن جناب رسول اللہﷺ کی بعثت ساری انسانیت اور قیامت تک کے لئے ہے جب ہم دین اسلام کواسلام کہتے ہیں تو اس کا معنیٰ یہ ہے کہاسلام کے پیغام میں سلامتی ہے ۔ہم جب لفظ ایمان استعمال کرتے ہیں تو اس ایمان کے اندر امن کا پیغام پوشیدہ ہے اور آج ہم یہاں پر اپنے بحرین کے مسلمان بھائیوں کے لئے اپنے پاکستانی بھائیوں کی طرف سے امن کا پیغام لیکر آئے ہیں سلامتی کا پیغام لیکر آئے ہیں مسلمانوں کا باہمی امن اور باہمی اخوت ہی ان کی باہمی قوت ہے اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ اپنی طاقت بڑھاؤاس طاقت کو بنانے کی ابتداء باہمی وحدت سے ہوتی ہے ۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جب قوم کمزورہوتی ہے تو اس کی کمزوری کی ابتداء باہمی انتشار سے ہوتی ہے لہذا اگر طاقت بننے کی خواہش ہے تو سوائے امت کی باہمی وحدت کے ہمارے پاس کوئی پیغام نہیں ہے اللہ اور اس کا رسول بھی ہم سے یہی چاہتے ہیں باہمی نفرتیں اور باہمی تعثبات ایک دوسرے کی گردنوں کو کاٹنا ایک دوسرے کے خون کو بہانہ حرام قرار دیا گیا ہے اللہ اور اسکے رسول کے ہاں اس فعل کو ناپسندیدہ قراد دیا گیا ہے ہمارے لئے دنیا اخرت میں نفع بخش یہی چیز ہے جس کو اللہ اور اس کے رسول ﷺنے پسند کیا ہم اللہ کے دین کی اطباع کریں اور اس کے دین کی پیروی کریں انفرادی زندگی سے لیکر اجتماعی اور قومی زندگی تک اس کے پیرکار بن جائیں اللہ رب العزت ہمیں اس کی توفیق عطاء فرمائیں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ میں اہل وطن بھائیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جنہوں نے مملکت بحرین میں اس عزت اور اعزاز سے نواز اس اجتماع میں شرکت پاکستان اور بحرین کی گہری دوستی کا نشان ہے اللہ تعالیٰ اس کو مزید مضبوط مستحکم اور گہری دوستی میں تبدیل فرمائے ۔

1 2

البحرين تستضيف داعية يؤيد "وضع النساء في اكياس" للحديث عن التعايش!
البحرين تستضيف داعية يؤيد “وضع النساء في اكياس” للحديث عن التعايش!

اپنا تبصرہ بھیجیں