خلیج تعاون کونسل نے حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دے دیا

العربیہ ڈاٹ نیٹ ،ایجنسیاں
چھے عرب ریاستوں پر مشتمل خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دے دیا ہے۔
جی سی سی کے سیکریٹری جنرل عبداللطیف الزیانی نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ کونسل نے یہ فیصلہ حزب اللہ کی معاندانہ سرگرمیوں اور خلیج میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے نوجوانوں کو بھرتی کرنے کے بعد کیا ہے۔
سعودی عرب نے گذشتہ ماہ لبنان کے لیے تین ارب ڈالرز مالیت کی فوجی امداد معطل کردی تھی۔اس نے یہ فیصلہ بیروت حکومت کی جانب سے ایران کے دارالحکومت تہران میں سعودی سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر مشتعل ایرانی مظاہرین کے حملے کی مذمت نہ کرنے پر کیا تھا۔سعودی عرب کا کہنا تھا کہ لبنان نے کسی بھی فورم پر ایرانی کارروائیوں کی مذمت نہیں کی تھی۔
سعودی عرب نے اپنے شہریوں کو لبنان جانے پر انتباہ بھی جاری کیا تھا۔اس فیصلے کے بعد خلیجی عرب ریاستوں کویت ،بحرین اور متحدہ عرب امارات نے حزب اللہ کے خلاف متعدد اقدامات کیے ہیں اور اپنے شہریوں پر لبنان جانے پر پابندی عاید کردی ہے۔
ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے جنگجو شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے ساتھ مل کر باغی گروپوں کے خلاف لڑرہے ہیں۔یمن میں حزب اللہ کے جنگجو حوثی باغیوں کی عسکری معاونت کررہے ہیں اورانھیں یمنی فوج سے لڑنے کے لیے اسلحہ اور جنگجو مہیا کررہے ہیں۔
جی سی سی میں بحرین ،کویت ،اومان ،قطر ،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔سعودی عرب نے اگلے روز حزب اللہ سے تعلق کے الزام میں چارکمپنیوں اور تین لبنانیوں پر پابندیاں عاید کردی تھیں۔سعودی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ”سعودی مملکت تمام دستیاب وسائل اور ذرائع کے ساتھ نام نہاد حزب اللہ کی دہشت گردی کی سرگرمیوں کے خلاف لڑائی جاری رکھے گی”۔
واضح رہے کہ سعودی عرب نے پہلے بھی حزب اللہ کے متعدد سینیر عہدے داروں پر مشرق وسطیٰ بھر میں طوائف الملوکی اورعدم استحکام پھیلانے سے متعلق سرگرمیوں میں ملوّث ہونے کے الزامات میں پابندیاں عاید کررکھی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں