بڑی باجی!

مولانا محمد شفیع چترالی
محدث العصر علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کی صاحبزادی اور امام اہلسنت مولانا مفتی احمدالرحمن رحمہ اللہ کی اہلیہ محترمہ جو بنوری خاندان میں ”بڑی باجی“ کے پروقار لقب سے یاد کی جاتی تھیں، گزشتہ ہفتے خلد آشیانی ہوگئیں، اناﷲ واناالیہ راجعون۔ مرحومہ کی عظمت شان اور علو مقام کے بیان کے لیے یہ حوالہ بھی کچھ کم نہیں ہے کہ وہ اپنے زمانے کے ایک بڑے محدث علامہ محمد یوسف بنوری کی لخت جگر اور دوسرے بڑے محدث علامہ عبدالرحمن کامل پوری رحمہ اللہ کی بہو تھیں، مگر ان سیدزادی کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات میں بھی ایسے اوصاف وکمالات سے نوازا تھا کہ ان کا وجود نہ صرف بنوری خاندان کے لیے بلکہ دنیابھر میں موجود حضرت بنوری اور مفتی احمدالرحمن کے منتسبین ومتعلقین کے لیے تسکین روح و جاںکا ایک ذریعہ تھا۔ ایک عظیم باپ کی بیٹی، ایک عظیم سسر کی بہو اور ایک عظیم شوہر کی اہلیہ ہونے کی نسبت کا آپ نے پوری زندگی کچھ ایسا لاج رکھا کہ آج آپ کی رحلت پر ایک جہاں کو رنجیدہ وافسردہ پایا۔کہا جاتا ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اسلام میں مرد اور عورت کے معاشرتی کردار کی مثال پھول اور خوشبو کی ہے۔ مرد اگر پھول ہے تو اس کی خوشبو عورت سے ہے۔ خوشبو دیکھنے میں تو نہیں آتی لیکن اس کے بغیر پھول کا تصور نامکمل ہے۔ اسی طرح مسلم معاشرے کی تعمیر، تعلیم وتربیت اور تہذیب اخلاق میں جہاں مرد مصلحین، علماءاور بزرگان دین کا کردار نمایاں ہوتا ہے، وہیں ان ماو¿وں، بہنوں، بیویوں اور بیٹیوں کا کردار بھی کچھ کم نہیں ہے جو پس منظر میں رہ کر عظیم ہستیوں کی شخصیت کو بناتی، سنوارتی اور قابل رشک بنادیتی ہیں۔
بڑی باجی کی پیدائش جامعہ اسلامیہ ڈابھیل (انڈیا) میں اس وقت ہوئی تھی جب حضرت بنوری وہاں مدرس تھے۔ یہ ہندوستان کی تقسیم کے زمانے کے پرآشوب حالات کا دور تھا۔ حضرت بنوری اپنے شیخ علامہ شبیراحمد عثمانی رحمہ اللہ کی خواہش اور حکم پر پاکستان میں اسلامی علوم کی ترویج واشاعت کے لیے تشریف لائے تو یہاں ایک نئے عظیم ادارے کی تشکیل کے مراحل میں انہیں کئی مشکلات کا سامنا رہا، جن سے ان کا خاندان بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ اس کے باوجود حضرت نے اپنی صلبی اولاد کو بھی روحانی اولاد کی طرح اخلاص، توکل، صبر واستقامت اور مشکلات کا ہمت سے مقابلہ کرنے کی تربیت دی۔ بڑی باجی میں اس تربیت کا پرتو بہت نمایاں تھا۔ بڑی باجی کی دوہری خوش نصیبی تھی کہ ان کی نسبت وقت کے بڑے ولی ومحدث مولانا عبدالرحمن کامل پوری کے قابل ولائق فرزند مفتی احمدالرحمن سے طے پائی جو خود بھی ایک جامع کمالات شخصیت تھے۔ حضرت بنوری ے اپنی زندگی میں ہی انہیں اپنا جانشین مقرر فرمایا اور انہوںنے حضرت بنوری کی رحلت کے بعد اس جانشینی کا حق اس خوبصورتی کے ساتھ ادا کیا کہ دنیا اش اش کرتی رہ گئی۔ اس میں جہاں مفتی احمد الرحمن کی اپنی شخصیت کا سحر کارفرما تھا، وہاں پس منظر میں حضرت بنوری کی صاحبزادی کا بھرپور تعاون اور مدد ومعاونت بھی ایک اہم عنصر تھا۔ انہیں اپنے عظیم والد حضرت بنوری کے مشن اور ادارے سے والہانہ لگاو¿ تھا اور اس ادارے کی کامیابی کے لیے انہوںنے مفتی صاحب کو مکمل سپورٹ فراہم کیا۔
مفتی احمد الرحمن کو اللہ تعالیٰ نے بے مثال شان محبوبیت عطا کی تھی۔ لوگ ان پر اتنا اعتماد کرتے کہ خیر کے کاموں میں خرچ کرنے کے لیے ان کے سامنے رقوم کے ڈھیر لگادیتے، اس زمانے میں کراچی میں دینی اداروں اور تنظیموں کو کسی بھی دینی سرگرمی کے لیے رقم کی ضرورت پیش آجاتی تو ان کی نگاہ سب سے پہلے مفتی صاحب کی طرف اٹھتی، اس کے علاوہ غریب مدارس، علماءاور مستحقین کی ایک بڑی تعداد تھی جن کے ساتھ مفتی صاحب براہ راست تعاون کیا کرتے تھے، مگر اس کے باوجود 1991ءمیں جب مفتی صاحب نے اچانک داعی¿ اجل کو لبیک کہا تو ان کا ذاتی اثاثہ اتنا بھی نہیں تھا کہ گھر کاایک ہفتے کا خرچہ ہی پورا ہوسکتا۔ مفتی صاحب نے ذاتی مکان بنایا تھا نہ اپنے بچوں کے لیے کوئی انتظام کیا تھا، جبکہ مفتی صاحب کے بچے اس وقت زیرتعلیم تھے۔ان سخت اور مشکلات حالات میں بڑی باجی نے جس ہمت، حوصلے اور صبر واستقامت کے ساتھ خاندان کو سنبھالا اورمفتی صاحب کے بہت سے صدقات جاریہ کو باقی رکھا، یہ سنہری الفاظ میں لکھ جانے کے لائق ہے۔ بڑی باجی نے مفتی صاحب کی طرح متعدد دینی اداروں بالخصوص خواتین اور بچیوں کے مدارس کی سرپرستی کی۔ بنات کے مدارس کی تقریبات میں بچیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے تشریف لے جایا کرتیں۔بڑی باجی کی شخصیت ایک شجرسایہ دار کی طرح تھی، وہ زہد وتقویٰ، للہیت واخلاص اور خلق خدا کے ساتھ ہمدردی اور پوری امت مسلمہ کے لیے فکرمندی میں اپنے عظیم باپ اور عظیم شوہر کی صفات کا عکس جمیل تھیں۔
راقم کی خوش نصیبی رہی کہ مجھے بڑی باجی کی مادرانہ شفقت میسر رہی۔ صاحبزادہ مولانا عزیزالرحمن رحمانی کے مختصر دور تدریس کے دوران مجھے ان سے تلمذ کا شرف حاصل رہا اور مولانا طلحہ رحمانی سے برادرانہ تعلق ہے، اس نسبت سے بڑی باجی بہت شفقت فرما یا کرتی تھیں۔ ایک دفعہ فون پر فرمایا کہ میں آپ کے لیے بہت دعائیں کرتی ہوں۔ وہ روزنامہ ”اسلام“ کی باقاعدہ قاریہ ہی نہیں تھیں، بلکہ بہت دفعہ اخبار میں چھپنے والے مواد سے متعلق اصلاح اور رہنمائی بھی فرمایا کرتی تھیں۔ ”اسلام“ سے ان کے لگاو¿ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک دفعہ چند ماہ کے لیے برطانیہ کے سفر پر تشریف لے جارہی تھیں تو وہاں اخبار کی ترسیل کے لیے انتظام کرواکر گئیں۔ ”اسلام“ میں حضرت بنوری یا جامعہ بنوری ٹاو¿ن سے متعلق کوئی مواد چھپتا تو اہتمام سے اخبار کے نسخے منگواکر متعلقین میں تقسیم کرواتیں۔ وفات سے ایک ہفتہ قبل بڑی باجی نے فون کرکے توجہ دلائی کہ فلاں بڑے عالم کا انتقال ہوگیا اور ”اسلام“ میں خبر نہیں چھپی،فرمایا کہ خبر چھپنے سے لوگ مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔ گزشتہ اتوار کو بڑی باجی کی وفات کی اطلاع ملی تو راقم کو خیال آیا کہ ان کا وہ فون گویا ان کی اپنی رحلت کا پیشگی ”الارم“ تھا۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کی کامل مغفرت فرمائیں اور پس ماندگان کو صبرجمیل کی توفیق دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں