سینڈل کی ایڑھی پہ رکھی پارسائی

تحریر: سلمان ربانی

سولہ فروری کو humsub.com.pkپر سستی شہرت کے حصول کے لئے علماء کرام اور فتاوے کی تضحیک پر مسعود قمر نامی نام نہاد لکھاری کی شائع ہونے والی تحریر کے جواب میں


وجاہت مسعود صاحب منجھے ہوئے صحافی اور دور اندیش تجزیہ نگار ہیں ایسا اپنے کچھ دوستوں سے سنا تھا، وہ ایک اردو ویب سائٹ بھی چلاتے ہیں جس پر بڑے نامور لکھاریوں کی تحریریں شائع بھی کی جاتی ہے، گزشتہ دنوں ان کی ویب پر مسعود قمر نامی کسی غیر معروف لکھاری کی ایک تحریر (سینڈل کی ایڑھی پر رکھی پارسائی)شائع ہوئی، گویا کہ موصوف کی تحریر سے محسوس ہوا کہ وہ پرلے درجے فارغ ہیں ، ان کی تحریر سے محسوس ہوتا تھا کہ وہ حالت علاج میں چل رہے ہیں، خود کلامی اور بال نوچنے کی بیماری ہے ،قابل رحم ہیں، یہ میں الزام نہیں لگارہا بلکہ ان کی تحریر سے ان کی شخصیت کا تجزیہ کررہا ہوں،اپنی تحریر میں انہوں فن مزاح اور کامیڈی کا ذکر کیا، فرماتے ہیں کہ آج کے زمانے میں کامیڈی کی ضرورت نہیں مولوی اور مفتیوں کے فتوے پڑھ لئے جائیں یہی آج کی سب سے بڑی کامیڈی ہے، اور اسی تناظر میں موصوف نے مفتی محمد نعیم کا حوالہ دے کر ان کے کسی خطاب کا ذکر کیا جس کی چند سطریں یہ ہیں:۔

پیچھلے دنوں مولوی حضرات کے دلچسپ موضوع یعنی ” اسلام میں عورت کا مقام“، پہ ایک کانفرنس ہوئی جس میں جامع بنوریہ کے مالک اور ملک کے ممتاز عالم ِ دین مفتی نعیم صاحب نے بھی خطاب فرمایا ۔اس خطاب میں مفتی صاحب نے ارشاد فرمایا کہ ” عورت کو اونچی ایڑھی کے سینڈل نہیں پہننا چاہیے کیونکہ ایسے سینڈل پہننا حرام ہے “۔ ٹھہریں ابھی سے ہنسنا نہ شروع کریں …. مفتی صاحب مزید فر ماتے ہیں جو عورت اونچی ایڑھی کے سینڈل پہنے گی وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔۔۔۔ الخ

موصوف کی مکمل تحریرکا لنک:۔
http://humsub.com.pk/5113/masood-qamar-3/

موصوف کی پوری تحریر پڑھ کر پہلے پہل تو یقین نہیں آیا کہ جس تحریر کے لکھاری کے چاندی جیسے بال ہوں ، پاؤں قبر میں ہو تو کیا وہ جھوٹ لکھے گا یا کیا وہ کسی پر تہمت باندھے گا، مگر کیا کریں گلوبلائیزیشن کا دور ہے ، دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہونے میں اب ٹائم نہیں لگتا تھوڑی سی تحقیق سے ہوا کہ مفتی نعیم کے نام سے ایک جعلی خبر پر موصوف اپنی اس فضول تحریر میں اپنا اوردوسروں کا وقت برباد کرچکے ہیں، روزنامہ امت پیر 51 فروری 6102 کے شمارے کی ایک جعلی خبر مفتی نعیم کے نام سے سوشل میڈیا پرپھیلائی جس کی سرخی کچھ اس طرح تھی:
اونچی ایڑھی والی سینڈل پہننا حرام ہے۔ پہننے والی عورت دائرہ اسلام سے خارج ہے۔مفتی نعیم
یہ جعلی خبر سوشل میڈیا کے مشہور ملحد زالان کے روزنامہ چورن کے نام سے فیس بک پیج پر اپلوڈ کی گئی تھی، اس جعلی خبر کو اس لنک پر دیکھا جا سکتا ہے:
https://web.facebook.com/RoznamaChooran/?pnref=story

12734191_938349589551651_3810265119305237063_n

سولہ فروری 2016 کے روزنامہ امت اخبار کا لنک:۔
(اطمنان کے لئے یہ پورا اخبار بھی چھان لیجئے)
http://ummat.net/2016/02/15/

موصوف مسعود قمر کی صحافیانہ و لکھاریانہ صلاحیت کا اندازہ لگائیے کہ یہ جعلی خبر بنا کسی تحقیق کئے اپنی فیس بک پروفائل پر شئیر تو کی لگے ہاتھ اس خبر کو بنیاد بناکر من گھڑت ایک جھوٹی تحریر بھی بنا ڈالی اور اس سے آگے دیکھئے ہم سب ڈاٹ کام پر جھٹ پٹ بنا کسی تحقیق کے اپلوڈ بھی ہوگئی۔
اس جھوٹی خبر کے اپلوڈ ہونے سے لیکر ہم سب ڈاٹ کام پر اس غیر ذمہ دارانہ تحریر کے شائع ہونے تک کے عمل سے ایک بات بخوبی سمجھ آئی کہ شدت پسندی اور تعصب کا گند اس قوم کےخودساختہ روشن خیال نام نہاد لبرل و سیکولر کے دماغوں میں بھی گائے کے بھوسے کی طرح بدرجہ اولا بھرا پڑا ہے، آپ لبرل ہوں، ملحد ہوں، سیکولر ہوںکچھ بھی ہوںبرداشت ہے مگر آپ سراپا گند ہوں یہ کسی صورت برداشت نہیں۔وجاہت مسعود صاحب سے گزارش ہے کہ اپنی ویب سائٹ پر اس غیر ذمہ دارانہ تحریر کے شائع ہونے پر اپنی پوزیشن واضح کریں، وگرنہ آپ بھی اسی گند میں شمار کئے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں