ڈِزایبلٹی (معذوری) – Disability (ذیشان الحسن عثمانی)

ذیشان الحسن عثمانی
ڈِزایبلٹی کی تعریف اُس حالت سے کی جاتی ہے جِس میں انسان کی سوچنے، سمجھنے، کام کرنے اور روزمرہ کے معاملات نپٹانے کی صلاحیت محدود ہو جائے۔
کوئی ہاتھ اور پیروں سے اپاہج تو کوئی ذہنی معذور، کسی کو لرننگ ڈزایبلٹی تو کسی کو بولنے، سننے یا دیکھنے میں دِقت۔ اقوامِ متحدہ سے لے کر دنیا کے تمام ممالک ایسے لوگوں کو خصوصی مراعات دینے کے حامی اور سینکڑوں ادارے اِن لوگوں کی توجہ اور بحالی کی ضامِن۔
عبداللہ سوچا کرتا، کہ جسم کی طرح روح پر بھی ڈِزایبلٹی آ جاتی ہے۔ پھر وہ سوچنے، سمجھنے، پرکھنے اور متنبہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتی ہے۔
روح پر بھی تو فالج گر جاتا ہے اس کے بعد انسان کو اچھے برے کی تمیز ختم ہو جاتی ہے اُس شخص کی طرح جس کی زبان کا ذائقہ ختم ہو گیا ہو پھر مٹی اور مرغی دونوں برابر ہیں۔ اِسی طرح فالج زدہ روح نہ گناہ پر ٹوکتی ہے اور نہ ہی نیکی پر جھومتی ہے۔
عبداللہ آج نیویارک میں اندرونِ زمین بنی ٹرین (جسے سب وے کہا جاتا ہے) میں سفر کر رہا تھا۔ ٹرین کی بوگی کے کونے میں ڈِزایبل لوگوں کے لئے مخصوص سیٹیں مختص تھیں۔ عبداللہ نے اُس طرف دیکھا اور جا کے چُپ چاپ ان پر بیٹھ گیا۔ پورے سفرمیں اُس کی آنکھوں سے آنسو ٹِپ ٹپ کر کے گرتے رہے۔ وہ سوچتا رہا کہ اللہ سبحانہ و تعالی سے کنیکٹ ہونا، دعا مانگنا، التجاء کرنا، بھروسہ و یقین رکھنا بھی تو ایک صلاحیت ہے اور اس میں ہم سب ڈِزایبل ہو گئے ہیں۔ ان مخصوص نشستوں پر تو اُمتِ مسلمہ کو بیٹھ جانا چاہئیے۔ آج امت کو سب سے ذیادہ خطرہ امتیوں سے ہی ہے۔
روح کی وہ صلاحیت جو اپنے رب سے کنیکٹ کرے اس کی محتاجی کا بھی کوئی مداوا کرے۔ کوئی ادارہ، کوئی دوا، کوئی ٹریٹی اس کے لئے بھی بنے۔
عبداللہ کی سوچ کو ایک لنگڑے شخص نے توڑا جو سیٹ کا متمنی تھا۔ وہ عبداللہ کو حیرت سے دیکھ رہا تھا کہ وہ اِس سیٹ کا ذیادہ حقدار ہے اور عبداللہ اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا کہ ٹانگوں کی معذوری، روح کی معذوری سے کیسے بڑھ سکتی ہے۔
چلتے پھرتے لوگوں کی اِسی دنیا میں نادیدہ ڈِزایبلٹی کا رونا کون روئے؟
خود سے اِٹھیں تو خُدا تک پہنچیں نا! وہ ایسا کریم کہ گناہ بندہ کرے اور حیاء اس ربِّ قدیر کو آئے۔ ڈِزایبل لوگوں کی ڈِزایبلٹی کا علاج ایک سجدہ ہے جو خلوصِ نیت سے اس کی طلب میں کیا جائے جو روحوں کے فالج کو پلک جھپکنے میں ٹھیک کرنے پر قادر ہے__.

اپنا تبصرہ بھیجیں