ماروی سرمد کون؟

گزشتہ روز نجی ٹی وی چینل پر ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے جاری ٹی وی ٹالک شو میں ماروی سرمد نے جامعہ بنوریہ کے مہتمم مفتی محمد نعیم سے بحث کرتے ہوئے اخلاق کی تمام حدود کو عبور کرتے ہوئے یہ کہا کہ میں آپ کو اور آپ کے مدرسے کے طلباء کو ویلنٹائن وش کرتی ہوں اور ویلینٹائن پر آپ کو غبارے بھی بھیجوں گی۔
پاکستان کی نا پسندیدہ اور مشکوک کردار کے حامل افراد کی فہرست میں سرفہرست رہنے والی ماروی سرمد پاکستانی میڈیا پر مخصوص موقعوں پر نمودار ہوتی ہیں اور پھر غائب ہوجاتی ہیں، جیسا کہ آج کل ویلنٹائن کے لئے سرکردہ ہیں۔ ہم جنس پرستی کی راہ ہموار کرنے سے لے کر کھلے عام میڈیا پر شعائر اسلام کی توہین کرنا اپنا بہترین مشغلہ سمجھتی ہیں، اور کھلے عام اپنے آپ کو باغی کہلواتی ہیں،ریاست پاکستان کی نظریات سے کھلی نفرت کا اظہار برملا کرتی ہیں، چینلز پر متنازع پر موضوعات پر گفتگو کو ہمیشہ مذہبی طبقے کو بھڑکانے کی جانب لے جاتی ہیں اور اصل موضوعات سے توجہ ہٹا کر ماحول خراب کردیتی ہیں ۔
انٹرنیٹ پر موجود معلومات کے مطابق ماروی سرمد کا اصل نام شازیہ انور ہے ،بیرونی ایجنسیوں کے ایما پر کام کرنے والی ماروی سرمد ماضی میں ہم جنس پرستی کے پھیلاؤ اور راہ ہموارکرنے میں پیش پیش رہی ہیں۔
ماروی سرمد سے متعلق تمام تر تفصیلات اور خفیہ مقاصد اس لنک پر پڑھے جاسکتے ہیں:
http://pakistancyberforce.blogspot.co.uk/2012/10/raws-marvi-sirmed-aka-shazia-anwaar.html

https://safmaexposed.wordpress.com/tag/marvi-sirmed/
https://safmaexposed.wordpress.com/

گزشتہ روز نجی ٹی وی چینل پر ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے ٹی وی شو میں ماروی سرمد کی مفتی نعیم کی توہین اور اخلاق سے عاری گفتگو اس لنک پر دیکھی جاسکتی ہے:
http://www.unewstv.com/69308/tonight-with-fareeha-valentines-day-12th-february-2016

میڈیا چینلز پر شر انگیز گفتگو کرنا،انتہا پسندی کو ہوا دینا، جان بوجھ کر دل آزاری کرنا نیشنل ایکشن پلان کی کھلی خلاف ورزی ہے جیسا کہ وزیر داخلہ صاحب کہتے ہیں مگر ماروی سرمد اور ان جیسے نظریات پاکستان کے کھلے دشمنوں کو ہمیشہ چینلز پر چھوٹ رہی ہے،جس ملک میں ضرب عضب آپریشن چل رہا ہو، فرقہ واریت مذہبی جنونیت ، انتہا پسندی ، دہشت گردی کے خلاف دو ٹوک بیانیے پر باہم متحد ہورہے ہوں اور ایسے مواقع پر ماروی سرمد جیسی شرپسند خواتین کو لانچ کرنا پیمرا کے لئے سوالیہ نشان ہے؟
پیمرا کو ایسی متنازعہ شخصیت کے متعلق انٹرنیٹ پر موجود دستیاب معلومات اور حقائق کے مطابق اپنی پوزیشن واضح کرنے کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں