شدت پسندی ،ایک مہلک مرض

12106788_532754456888692_1841259180853877259_n
تحریر: نبیل اقبال

یہ مارچ 2009 کا واقع ہے جب ہمارا پشاور یونیورسٹی میں ایم بی اے کا آخری دن تھا، ڈگری کمپلیٹ ہونے کی سب کو بہت خوشی تھی اور اس خوشی کا اظہار ایک عجیب انداز میں کیا گیا ، بھنگڑے ڈالے جارہے تھے،ہلہ گلہ چل رہا تھا ،یہ سب کچھ ابھی چل ہی رہا تھا کہ کچھ مصلح افراد آئے ، انہوں نے آتے ہی تمام طلباء پر لاتوں اور گھونسوں کی بارش شروع کر دی اور سب کو تتر بتر کر دیا۔ اسی طرح کا ایک واقع پچھلے دنوں کراچی ایک مشہور جامعہ میں پیش آیا جب کچھ طلبات کرکٹ میچ کھیل رہی تھیں اور اچانک ان کا کھیل زبر دستی رکوا دیا گیا اور پھر اس واقع کا کافی سخت ردِ عمل دیکھنے میں آیا ۔ اس بحث سے قطع نظرکہ ان سٹوڈنٹس کا تفریح کا انداز درست تھا یا نہیں، لیکن یہ ایک فطر ی بات ہے کہ سختی اور شدت سے عوام الناس کے دل میں نفرت کا جذبہ ابھرتا ہے، اس سے معاملات کو کبھی نہیں سلجھایا جا سکتا جب کے محبت وہ لطیف جذبہ ہے جس سے آپ لوگوں کے دلوں میں گھر کر سکتے ہیں اور انہیں اپنے قریب لا سکتے ہیں۔ پچھلے کئی عشروں سے سیاست اور مذہب کے نام پے عدم برداشت اور شدت پسندی نے ہمارے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے ۔ 2007 میں لال مسجد میں پیش آنے والے واقع پے جہاں حکومت وقت کی جانب سے عدم برداشت کا مظاہرہ کیا گیا وہاں دوسری طرف ڈنڈے کے زور پے شریعت نافذ کرنے والوں کی شدت پسندی کی وجہ سے سینکڑوں جانوں کو اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔ مفتی اعظم پاکستان ، مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب کے مطابق وہ اس وقت کئی بار مولانا عبد العزیز صاحب کو سمجھاتے رہے کہ ہم بھی اس ملک میں شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں لیکن جو طریقہ کار آپ نے اختیار کیا وہ سود مند ثابت نہیں ہو سکتا، لیکن مولانا صاحب کی ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے سنگین نتائج بھگتنا پڑے۔ اب کی بار ایک مرتبہ پھر مولانا عبد العزیز صاحب حکومت کے لئے دردِ سر بن چکے ہیں ، ایک سال گزر چکا وہ آرمی پبلک سکول پے حملے کی مذمت کرنا مناسب نہیں سمجھتے ، حتیٰ کہ اس بنا پے ان کے گھر کے سامنے کئی بار لوگ احتجاج بھی کر چکے ہیں ، اس بات میں کئی شبہ نہیں کہ ہمارے ملک میں ایسی شدت پسند سوچ رکھنے والے عناصر موجود ہیں، جو کبھی تو یہ کہتے ہیں کہ امریکہ کے ہاتھوں کتا بھی مرے تو میں اسے شہید کہوں گا اور کچھ لوگوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ امریکہ کی شروع کردہ اس جنگ میں مرنے والوں کو ہم شہید نہیں کہہ سکتے ۔ گویا یہ وہ الفاظ ہیں جو دہشت گردی کے خلاف پاک فوج لا زوال قربانیوں کو چیلنچ کرنے کے مترادف ہیں ، اس طرح کی سوچ نے نا صرف عرضِ پاکستان بلکہ اسلام کو شدید نقصان پہنچایا ہے ۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ہمیں ایک لائن ڈرا کرنی ہوگی اور سنجیدگی کے ساتھ ان عناصر کی نشاندہی کرنے ہو گی کہ کون ہمارے ساتھ ہے اور کون شدت پسندی کی اس مہلک مرض میںمبتلا ہے ، کیونکہ پچھلے کئی دنوں سے ہماری یہی صورتِ حال ہے کہ ’’ہوتا ہے شب و روز تماشہ میرے آگے‘‘۔ اس حوالے سے حکومت وقت کی سب سے بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ مملکتِ خداد اد کو اس کنفیوژن سے باہر نکالے اور کھل کے بتائے کہ مولانا عبد العزیز صاحب سمیت باقی تمام افراد اس ملک کے بہترین مفاد میں ہیں اور تمام چہماگوہیوں کو دور کرے ،اور اگر حکومت ساتھ ثابت کر سکتی ہے کہ اس طرح کے عناصر اس عرضِ پاک کیلئے دیمک کا کردار ادا کر رہے ہیں تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی ہونے چاہیے، چونکہ دلوں کے راز اس ربِ ذوالجلال کی ذات خوب جانتی ہے ہم کسی کو بلا تحقیق بے گناہ یا قصور وار نہیں ٹھہرا سکتے، بقول شیخ الحدیث حضرت ذکریا ؒ’’مرنے کے بعد ہی معلوم ہو گا کہ ہم گدھے پے سوار تھے یا گھوڑے پر‘‘،حکومت کو ہی تصویر کا صحیح رخ دکھانا ہو گا، کب تک ہم اپنے بچوں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے، یہ قوم بے گناہ لوگوں پاک فوج کے خون کو کبھی راہیگاں نہیں جانے دیگی۔ اب وقت آ چکا ہے کہ سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا، محض حکومت کی طرف سے سکولوں کو بند کر کے کب تک ہم اپنے بچوں کو گھر بٹھا سکتے ہیں ، ہم تو دشمن ک بچوںکو پڑھانے نکلے تھے کہیں ایسا نہ ہو سکول بند کر کے خدا نخواستہ دشمن ہمارے بچوں پڑھانا شروع کر دے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں