چترال بجلی کا بحران

تحریر: لطف الرحمن

پاکستان کے شمال میں واقع وادی چترال اپنے قدرتی حسن اور منفرد تہذیب کی وجہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں ممتاز مقام کا حامل ہے۔ تاہم قدرتی حسن سے مالامال یہ خطہ ہمیشہ سے ہی حکومتی عدم توجہی کا شکاررہا ہے ۔ لواری ٹنل کی تعمیر ہو یا صحت کی سہولیات، تعلیم کی فراہمی ہو یا روزگار کے مواقع، ہر شعبے میں چترال کے عوام کے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک رواہ رکھا گیا ہے۔ چترال کے عوام کی مایوسیوں میں اس وقت مزید اضافہ ہو ا جب پچھلے سال سیلاب کی وجہ سے ریشن پن بجلی گھر تباہ ہوگیا، ایک سال کا عرصہ بیت جانے کے باوجود اس بجلی گھر کی بحالی کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں اور نہ ہی مستقبل میں حکومت کا کوئی ایسا ارادہ نظر آرہا ہے ۔
ریشن پن بجلی گھر (Reshun Hydro Power Projet) صوبائی حکومت نے 1999 میں تعمیر کروایاتھا ۔ MW 4.2 کی حامل یہ پن بجلی گھر وادی ِ چترال کے 69دیہات کو بجلی فراہم کر رہا تھا ، مگر اب حکومتی بے توجہی کے سبب پچھلے ایک سال سے 69دیہات کے ہزاروں لوگ بجلی کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہزاروں طلباء کا مستقبل بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے داوء پر لگا ہے۔ اس سلسلے میں جہاں وفاقی اور صوبائی حکومتیں ابھی تک کوئی خاطر خواہ قدم اٹھانے سے لاچار ہیں وہیں مقامی سیاسی قیادت کا کردار بھی نہایت مایوس کن ہے۔ یہ صورت ِ حال ملک کے کسی دوسرے حصے میں پیش آتی تو شاید اس کے نتائج بھی سنگین نکلتے لیکن چترال کے عوام نے ہمیشہ ملک کی خاطر اپنے حقوق کی قربانی دی ہے اور اسی جذبے کے تحت کسی بھی انتہائی قدم سے گریزاں ہیں۔
ذرائع کے مطابق ریشن پن بجلی گھر کی تعمیر و بحالی کے لئے تقریباََ ایک ارب روپے اور کم از کم دو سال کا عرصہ درکا ر ہے۔ دوسری جانب گولین گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ بھی تعطل کا شکار ہے۔ ایک اندازے کے مطابق خیبر پختونخواہ میں تقریباََ بیس ہزار میگاواٹ پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے ۔ تاہم بڑے پن بجلی گھروں کی تعمیر کے لئے وقت درکا ر ہے ۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ کم لاگت اورمحدود مدت میں چھوٹے پن بجلی گھروں کی تعمیر کی طرف توجہ دی جائے تاکہ چترال کے عوام کو فور ی طور پر اندھیروں سے نکالنے میں مدد ملے۔
چونکہ چترال میں پن بجلی پیدا کرنے کے بے شمار مواقع ہیں اس لئے حکومت کو چاہئے کہ پن بجلی کے بڑے منصوبوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے منصوبوں کی طرف بھی توجہ دے۔ اس کی ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ حکومت گاوٗں کی سطح پر تعلیمات یافتہ بے روزگار نوجوانوں کو پن بجلی گھر کی تعمیر ، دیکھ بھال اور مرمت کی تربیت کاانتظام کرے ۔ یوں نہ صر ف سستی بجلی پیدا کی جاسکتی ہے بلکہ نوجوانوں کو روزگار بھی مہیا ء کی جاسکتی ہے ۔چترال سے منتخب قومی وصوبائی اسمبلی کے ممبران کو بھی چاہیئے کہ وہ مصیبت کی اس گھڑی میں عوام کا ساتھ دیں اور جلد از جلد چترال میں موجودہ بجلی کے بحران کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کریں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں