کہانی اور کردار

اعجاز منگی
کل صبح وہ کافی کمزور نظر آ رہا تھا۔رینجرز کے نقاب پوش اہلکاروں کے درمیاں بلوچی ٹوپی اور سفید رنگ کی لمبی چوڑی قمیص میں ملبوس عزیر جان بلوچ کی باڈی لئنگویج کو غور سے دیکھنے والوں میں صرف تنگ و تاریک گلیوں میں بسنے والے اہلیان لیاری ہی نہیں بلکہ ملکی پریس اور پولیس کے ذہین افراد کے ساتھ ساتھ اس ملک کے اہم سیاسی لوگ بھی شامل ہونگے!
یہ وہی عزیر بلوچ ہے جس کو گرفتار کرنے کے لیے کبھی لیاری جنگ کا میدان بن گیا تھا۔مگر پولیس کی بھاری نفری بکتربند گاڑیوں کے ساتھ اس چیل چوک کو کراس نہ کرپائی جس کے قریب اس کا بہت بڑا گھر تھا۔اس آپریشن میں لیاری کے غریب لوگوں کا کتنا نقصان ہوا؟ ان کے کتنے بچے زخمی ہوئے اور وہاں کے محنت کشوں کے کتنے گدھے گولیوں سے چھلنی ہوکر مرگئے؟ اس موضوع پر اردو اور انگریزی میڈیا نے تفصیل کے ساتھ لکھا تھا۔ مگر اہلیان کراچی جو غم بھلا کر جینے کا ہنر سیکھ چکے ہیں ؛ وہ یہ سب کچھ فراموش بھی کرچکے ہونگے مگر وہ کوشش کے باوجود اپنی یاداشت سے اس ’’گینگ وار‘‘ کو نہیں مٹا سکتے جس میں کراچی کی غریب ماں جیسی بستی کے بہت سارے بیٹے صرف نیم تاریک راہوں میں ہی نہیں بلکہ چمکتے دمکتے سورج کے تلے بھی بے دردی سے مارے گئے!
اگر لیاری کی گلیوں سے باکسر؛ فٹ بالر اور سیاسی کارکنان کے ساتھ ساتھ بہت سارے ادیب بھی نکلتے تو کوئی ’’گینگ وار‘‘ کے نام سے ایسا ناول ضرور لکھتا جو ماریو پزو کے ’’گاڈ فادر‘‘ جتنا مقبول بھلے نہ ہوتا مگر وہ ناول ان فلموں کا پرکشش پلاٹ ضرور بن سکتا تھا جنہیں اہلیان کراچی ’’بھائی گیری‘‘ کی کیٹگری میں شامل کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ’’کھوجی‘‘ سے لیکر ’’ستیہ‘‘ اور ’’کمپنی‘‘ تک بالی ووڈ نے انڈرورلڈ پر بہت مقبول فلمیں بنائی ہیں مگر لیاری گینگ وار کا پس منظر ان سب فلموں سے زیادہ دلچسب ہے۔
اور آج انتالیس برس کا وہ عزیر بلوچ جو سلطانی گواہ بن کر کراچی میں جرم کے عروج اور سیاست کے زوال کی کہانی سنانے کے لیے تیار ہے ؛ وہ اسی شہر کے اسی علائقے کی پیدوار ہے جہاں ’’بابو ڈکیت‘‘ اور ’’حاجی لالو‘‘ نے دو گینگ بنائے۔ منشیات میں چرس اور افیوں سے ترقی کرکے ہیروئن تک پہنچنے والے نشے کے یہ بیوپاری جو بعد میں بھتہ اور اغوا برائے تاوان کی مجرم دنیا میں داخل ہوئے انہوں نے ایک دوسرے سے لیاری کو چھیننے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھیوں کو موت کی وادی میں پہچانے کی مسلسل کوشش کی۔ اسی کوشش میں حاجی لالو کا بیٹا ارشد پپو بھی مارا گیا اور داد محمد دادل کا بیٹا عبدالرحمان ڈکیت بھی جس نے سب سے پہلے جرم کی گلی سے سیاست میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ جب پولیس کے ہاتھوں سے آسانی کے ساتھ اڑ جانے والے رحمان ڈکیت کا ’’انکاؤنٹر‘‘ ہوا تب اس کی سیٹ پر براجمان ہوا وہ عزیر جان بلوچ جس نے رحمان ڈکیت اور ارشد پپو کی طرح غربت اور جرم کی دنیا میں آنکھ نہیں کھولی تھی۔ وہ ایک کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھنے والا ایسا بلوچ نوجوان تھا جس کے والد ماما فیضو نے اسے لیاری کے حوالے سے ’’لش پش‘‘ جیپ بھی دی تھی۔
ماما فیضو کا وہ لاڈلہ بیٹا جو ابتدا میں کبوتر بازی کا شوقین تھا۔ جو لیاری میں ہونے والے کبوتروں کے مقابلے میں بڑے شوق سے حصہ لیتا تھا۔ جس کو اسپورٹ سے بھی شغف تھا اور جس کو بہت زیادہ شوق تھا سیاستدان بننے کا! یہی سبب ہے آج سے پندرہ برس قبل 2001 میں بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے عزیر بلوچ نے اگر سیٹ نہیں جیتی تو کم از کم وہ ووٹ لینے والوں میں دوسرے نمبر پر ضرور رہا۔ وہ عزیر بلوچ جس کے والد کو ارشد پپو گروپ نے بھتہ نہ دینے کے جرم میں اغوا کیا اور ان کی شرائط نہ ماننے کی پاداش میں قتل کر دیا۔
اہلیان لیاری کہتے ہیں کہ یہ واقعہ عزیر جان بلوچ کی زندگی کا منفی موڑ ثابت ہوا اور اس طرح عزیر بلوچ اس لیاری گینگ کا اہم کردار بن گیا جس سے کرمنل مائینڈ سیٹ رکھنے والے سیاسی دنیا کے لوگوں نے رابطے قائم کیے اور اس طرح وہ ’’پیپلز امن کمیٹی‘‘ وجود میں آئی جو اسلحے کے زور پر کراچی میں تیزی سے پھیلتی گئی۔ یہ سب کچھ بیحد دلچسب داستان ہے۔ عزیر بلوچ نے کس طرح سیاست کے سرکاری کور میں اپنے جرم کے نیٹ ورک کو لیاری سے لیکر ملیر تک پھیلایا ؟ دن دگنی اور رات چگنی ترقی کرنے والی یہ کمپنی کس طرح سیاسی اختلافات کا شکار ہوئی؟ اس نیٹ ورک نے سیاستدانوں سے کیا لیا؟ اور سیاستدانوں کا کیا دیا؟ یہ سب کچھ بتانے کے لیے بے تاب ہے وہ عزیر بلوچ جس کو دو برس قبل انٹرپول نے دبئی میں گرفتار کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت عزیر بلوچ کے پاس ایرانی پاسپورٹ تھا اور وہ دبئی سے عزیر بلوچ پاکستان کس طرح پہنچا؟ یہ سوال اس اردو شعر جیسا ہے جس میں ’’صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں‘‘ والی شکایت کے ساتھ ساتھ کسی ’’چلمن‘‘ کا بھی ذکر ہے۔
عام طور پر ملکی اور خاص طور پر کراچی کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سیاسی مبصر اس نقطے پر بحث میں مصروف ہیں کہ اقتداری سیاست میں اکے کے کارڈ جیسے گینگ وار کا بدنام کردار عزیر بلوچ پیپلز پارٹی اور وفاقی حکومت کے وزارت داخلہ کے درمیاں جاری کشمکش کے باعث منظرعام پر لایا گیا ہے یا یہ کشمکش پیدا ہی اس لیے ہوئی تھی کہ عزیر بلوچ کو منظر عام پر لانے کا مرحلہ شروع کیا گیا تھا؟ کراچی میں رینجرز کے اختیارات کو محدود کرنے اور سندھ حکومت کو اسیمبلی سے کسی بھی ملزم کو آزاد کروانے کا آئینی اختیار اور اس پر میڈیا میں جاری مسلسل مباحثہ اس لیے جاری تھا کہ متحدہ کو مناسب سائز میں لانے کے بعد سیاست میں پناہ لینے والے دیگر کرداروں کو قانون کے دائرے میں لانے کی کوشش اپنے منطقی مراحل طعہ کر رہی تھی۔
اب جب پیپلز پارٹی نے عزیر بلوچ کے لیے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اس کا سندھ کی حکمران جماعت کے ساتھ تعلق رہا ہے مگر سندھ حکومت کے سابق وزیر داخلہ اور کافی وقت سے اپنے اسٹائل کے باغی کردار ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے کہا ہے کہ وہ آج بھی عزیر بلوچ کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ عزیر بلوچ جس کو رینجرز کے نقاب پوش اہلکاروں کے ہمراہ میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا ہے اس کے اعترافی بیان سے سیاسی دنیا کے کس کس کردار کے چہرے سے نام نہاد شرافت کا نقاب اترتا ہے؟
اس وقت سندھ کی سیاسی فضا میں سرگوشیاں ہو رہی ہیں مگر اسلام آباد خاموش ہے۔وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار کا یہ بیان کسی مخصوص مقصد سے خالی نہیں تھا جس میں اس نے کچھ ظاہر اور کچھ لپٹے لہجے میں ان کرداروں کی طرف بھی اشارہ کیا جنہیں اب میڈیا میں انٹرویو دینے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔
میڈیا کے وہ مخصوص اینکرز جو ایک عرصے سے دعوے کر رہے تھے کہ اسٹیبلشمینٹ بہت جلد عزیر بلوچ کو میڈیا پر لانے والی ہے وہ تو اپنی مذکورہ کامیابی کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں مگر اس بات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئیے کہ عزیر بلوچ کے منظرعام پر آنے سے وہ کردار بھی خوش نہیں جو پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت سے بغاوت کااعلان کرتے ہیں۔ ان کو بھی معلوم ہے کہ سیاست اور جرم کے اس مرکب میں کم از کم ابتدائی مرحلے پر تو وہ بھی محفوظ نہیں رہیں گے جو خود کو ’’جرم عشق پر ناز ‘‘ کرنے والے کردار سمجھتے ہیں۔
اس ملک کے لوگوں نے بین السطور اتنا پڑھا ہے اور بین الحروف اتنا سنا ہے کہ ان کی کیفیت ایک مغربی مصنف کے اس کردار جیسی ہوگئی ہے جو اپنی ڈائری میں لکھتا ہے کہ ’’میں نے اتنے عجیب اور افسوسناک حالات دیکھے ہیں کہ اب میں پلکیں جھپکنا بھول گیا ہوں‘‘ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ عزیر بلوچ کے اعترافی بیان کی کہانیاں سن کر لوگ سیاست کے بارے میں اپنا نقطہ نظر تبدیل کریں گے تو اس سلسلے میں ہمیں ایک بار پھر سوچنا یا ہمیں کچھ دیر انتظار کرناہوگا۔ اگر ہم اس خوشفہمی کا شکار ہیں کہ عزیر بلوچ کا حشر دیکھ کر مجرم صفت لوگ سیاست کا میدان چھوڑ کر بھاگ جائیں گے تو شاید ہماری یہ بات بھی بہت جلد ایک اور خوش فہمی ثابت ہوگی۔ عزیر بلوچ ہمیں جو کچھ بتائے گا وہ شاید ہم پہلے جانتے ہیں۔ ہاں! البتہ اتنا ضرور ہوگا کہ اس کی عترافی کہانی سن کر ہمیں اپنی علم اور اندازوں کی ٹوٹی ہوئی کڑیاں جوڑنے میں مدد ضرور ملے گی۔
سیاست اور جرم کے سنگم کی مذکورہ کہانی سننے کے بعد اچھی سیاست کی ابتدا ہوگی یا نہیں؟ اس بارے میں مایوسی پھیلانے والی باتیں دہرانا اچھی بات نہیں مگر مجرم سیاست کے چہرے سے نقاب ہٹنے کے بعد ملک میں موجود عدم سیاست کی کیفیت کو مضبوط ہونے کے امکانات ضرور پیدا ہونگے۔اس سلسلے میں ہمیں یہ بات بھی ذہن نشین کرنی چاہئیے کہ تاریخ کبھی نہ ختم ہونے والی ایک طویل ترین کہانی ہے۔ اس داستان روز و شب میں بہت سارے کردار لیاری گینگ وار پیپلز امن کمیٹی اور انڈر ورلڈ میں ملتے ہوئے جرم اور سیاست کے تانے بانے لیکر جو کردار داخل ہوتے ہیں وہ اپنی اپنی کہانی ختم ہونے کے ساتھ ساتھ کبھی منظرعام پرنہ آنے کے لیے رخصت ہوجاتے ہیں مگر جرم اور سیاست کی یہ داستاں کبھی ختم نہیں ہوتی۔ جرم اور سیاست کی یہ داستاں جو بہت کچھ بتانے کے باوجود اس سوال پر مجرم کی طرح خاموش ہوجاتی ہے کہ ’’سیاست اور جرم کو جدا کرنے والی سرحد اتنی موہوم کیوں ہوتی ہے؟‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں