مولانا طارق جمیل اور ہمارے رویوں کا دہرا معیار(کاشف نصیر)

kashif

کاشف نصیر

مولانا طارق جمیل ایسا عوامی مقرر اس وقت پاکستان کیا، اردو زبان میں کوئی دوسرا نہیں ہے ، شاید بعض لوگوں کو یہی کھٹکتا ہے۔ کسی کو اعتراض ہے کہ مولانا اپنے بیانات میں حوروں کا ذکر کیوں کرتے ہیں،کوئی پریشان ہے کہ انکی منظر نگاری سے کہیں پڑھا لکھا طبقہ دین بیزار نہ ہوجائے اور کوئی دہشت گردی کے واقعات پر انکی طرف سے مبینہ طور پر مذمتی بیانات جاری نہ کئے جانے پر سراپا احتجاج ہے ۔ کوئی ان سے پوچھے کہ دعوت اسلامی کے مولانا الیاس قادری صاحب مدظلہ نے کب مذمت فرمائی ہے۔ اگر الیاس قادری صاحب کے مذمت نہ کرنے پر انہیں اعتراض نہیں تو مولانا طارق جمیل صاحب کی مذمت میں ایسا کیا خاص ہے؟ دراصل یہ کردار کشی کی مہم کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
مولانا کے خطبات ، وعظ اور بیانات کا انداز خالص عوامی ہے، جس میں جہاں طوفان کا سا شور ہے وہیں دریا کی سی روانی بھی ہے۔ ایک طرف وہ جذبات کے ساگر بن کر ہنسانے اور رولانے پر قدرت رکھتے ہیں تو دوسری طرف مزاج آشنا ایسے کہ ذہن پڑھ لیں اور دل کھول کر رکھ دیں۔ وہ صرف مقرر نہیں، ہزاروں لاکھوں زندگیاں کے دھارے بدلنے والا ایک استعارہ بھی ہیں۔ سماج کے نشوو نما اور افراد کی تعمیر میں اگر انکے اثر رسوخ کا جائزہ لیا جائے تو شاید ہی کوئی انکا ہمسر نکلے۔ وہ سینکڑوں زندگیوں کو موت کی دہلیز سے پلٹانے ، ہزاروں کو لعو لعاب اور تباہی کے راستے سے رجوع کروانے اور لاکھوں کو اپنے معامالات بدلنے پر آمادہ کرنے والے ایک عظیم ساحر ہیں۔ کہتے ہیں کہ الفاظ کا اثر عمل،خلوص اور اخلاق سے مزین ہوتا ہے۔ مولانا کی زندگی میں یہ تینوں چیزیں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ اخلاص ایسا کہ لفظ اسکی گواہی دیں، تبسم اسکا زیور بنیں اور ان گنت گواہیاں اس پر مہر ثبت کریں، عمل ایسا کہ کسی کو نصیحت کرتے ہوئے پہلے سوچیں کہ اپنا عمل کیا ہے اور اخلاق ایسا کہ دشمن بھی کھینچے چلیں آئیں۔
یہ درست ہے کہ اپنے بعض عوامی بیانات میں وہ ضعیف روایات کا سہارا لیتے ہیں۔ لیکن فضائل کے باب میں ضعیف روایتوں کا بیان کیا جانا، الفاظ اور جملوں کی ترتیب کا آگے پیچھے ہونا اور حکایات کی منظرنگاری کرنا مبلغین کا صدیوں پرانا اور کامیاب نسخہ رہا ہے۔ اگر ان ضعیف روایات سے عقائد اور مسائل پر کچھ حرف نہ آئے تو تالیف قلوب کے لئے انکے بیان کئے جانے میں برا کیا ہے؟۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ مولانا علمی نہیں، دعوتی میدان کے آدمی ہیں اور دعوت و تبلیغ کے کام میں بہت سی مستنشنات ہیں۔ اس ملک میں ایسے سیکٹروں علماء بھی ہیں جنکی خرافات سے لوگ عقائد اور مسائل کے باب میں جوق در جوق گمراہ ہورہے ہیں۔کچھ عرصہ قبل ایک مولوی صاحب کسی پتھر کی آفادیت گنوارہے تھے جو مبینہ طور پر کسی بزرگ کے قدموں سے لگا تھا، کوئی نیت کرکے اسکو اٹھا لے ، اگر کام ہونا
ہوگا تو اٹھ جائے گا ورنہ نہیں۔ ایک اور مولوی صاحب نمازی کے سامنے سے گزرنے کا مسئلہ سمجھا رہے تھے۔ مسائل اور عقائد کے باب میں ایسی خرافات پر خاموشی اور فضائل کے باب میں ضعیف روایت پر اعتراض، سمجھ سے بالاتر ہے۔
اگر ہم اس بنیادی کلئے کو سمجھ جائیں کہ ہر کسی کی ذہنی سطح ایک سی نہیں ہوتی تو شاید ہمیں ابلاغ کی سائنس سمجھ آجائے۔ عمومی طور پر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جس سطح پر ہم کھڑے ہیں، ساری دنیا یا تو اسی سطح پر کھڑی ہے اور اگر نہیں کھڑی تو اسے اسی سطح پر کھڑا ہونا چاہئے۔ ذاتی طور پر مجھے ضعیف روایات کا بیان کرنا یا منظر نگاری ناپسند ہے لیکن میری پسند اور ناپسند سے کیا ہوتا ہے؟ میرے اعتراض سے عوامی و دعوتی مزاج اور تقاضے تو تبدیل نہیں ہونگے۔ مقرر کو مجمعے کے رنگ کو دیکھ کر بات کرنی پڑتی ہے کیونکہ نہ ہر کسی کی ذہنی سطح ایک جیسی ہوتی ہے اور نہ ہی تمام حالات و حوادث ایک سے۔ کہیں علمی بات کرنی پڑتی ہیں، کہیں منطق کا سہارا لینا پڑتا ہے، کہیں قرآن و سنت کافی ہوتا ہے، کہیں صرف حال احوال اور ادھر ادھر کی بات ہوتی ہیں اور کہیں پبلک ڈیمانڈ چلتا ہے۔مولانا مودودی، مفتی تقی عثمانی اور جاوید احمد غامدی کو آپ اور میں پڑھ لیں گے، ایک مزدور، پان کی دکان والا، ایک قصائی، ایک ریڑھی والا، ایک پرچیون فروش، ایک کسان اور ایک گوالا کیسے پڑھے گا، کیسے سمجھے گا؟ اسے اسکی زبان اور اسکے انداز میں دین سمجھانا ہوگا۔ خود آپ صلی اللہ و علی وسلم جب کسی بدو سے مخاطب ہوتے تو انکا انداز مختلف ہوتا، جب روساء کی کسی محفل میں تشریف فرما ہوتے تو الگ نظرآتے اور جب عام صحابہ کے ساتھ مسجد نبوی میں جلوا افروز ہوتے تھے انداز جدا ہوتا ہے۔
یہ باتیں سوشل میڈیا پر لکھتے ہوئے یاکسی ریسٹورنٹ کی محفل یاراں میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے سمجھ نہیں آتی، اسکو سمجھنے کے لئے میدان میں اترنا پڑتا ہے۔ گاؤں گاؤں، نگر نگر اور شہر شہر میں پھر کر ہی ایسی عزت ملتی ہے کہ ایک ہی دن میں لیاری ،باچاخان چوک اور نائین زیرو والے مدعو کرتے ہیں۔ افراد اور جماعت کی مذمت کرنا تبلیغ اور دعوت کا مزاج نہیں۔ ایک داعی کو ہر شخص کے پاس جانا ہے چاہے وہ معاشرے کا ناسور ہی کیوں نہ سمجھا جائے،اسے اپنے پرائے ہر ایک دروازہ کھٹکتانا ہے اور اسے مسجد سے لیکر مہ خانے تک ہر کوچے کی خاک چھاننی ہے۔ آپ اپنا کام کریں اور داعی کو اپنا کام کرنے دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں