شہادتوں کا امین(محمد یاسر حبیب)

محمد یاسر حبیب
کسی بھی قوم…..ملک وملت….اورادارے کی ترقی میں….بنیادی کردار..ان قربانیوں کا ہوتا ہے….جو قربانیاں اپنا خون دے کر دی جاتی ہیں……
میری نظرمیں…..عالم اسلام کی معروف دینی درسگاہ جامعہ بنوری ٹاون….وہ واحد ادارہ ہے جس نے اب تک اپنے کئی ہیرے راہ حق میں قربان کردئیے…..لیکن اس کے باوجود یہ ادارہ نہ صرف اب تک چل رہاہے……..بلکہ تعمیروترقی کی منزلیں بھی بفضلہ تعالی طے کررہاہے……..
وہ لوگ جو یہ سوچا کرتے تھے کہ ان علماء حق کو راستے سے ہٹانے کی صورت میں یہ ادارہ بندہوجائے گا……..آج اگر کہیں موجود ہوں گے تو انہیں اندازہ ہوجائے گا……..
کہ جس ادارے کو سینچا اور پروان چڑھایا ہی ان علماء اہل حق نے اپنا خون دے کر ہو…….. جنہوں نے اپنی جان بھی ہنستے مسکراتے اس پر واردی ہو……..
ایسے ادارے کو نہ کبھی زوال آسکتا ہے اورنہ ہی دین کی خدمت کرنے سے انہیں کوئی روک سکتا ہے……..
آج اس ادارے کی……..عظیم ادارے کی…….. دو شخصیات……..
حضرت مولانا مفتی عبدالمجید دین پوری شہید علیہ الرحمہ…….. اور ان کے رفیق جامعہ کے ایک اور استاذ…….. حضرت مولانا مفتی صالح کاروڑی شہید علیہ الرحمہ……..
کا یوم شہادت ہے……..
31جنوری 2013 کی دوپہر اسی ارض پاک پر اپنا مقدس و معطر خون نچھاور کرکے بارگاہ حق میں سرخرو ہوکر پہنچنے والی یہ دوشخصیات جن کی نہ تو کسی سے کوئی مخاصمت تھی اور نہ ہی کوئی لین دین کا تنازعہ …….. قال اللہ وقال الرسول کا درس دینے والی یہ دونوں شخصیات قافلہ شہداء میں آج کے دن شامل ہوگئیں تھیں……..
لیکن ……..تاحال قاتل نامعلوم……..
یقینا ان شہداء کا خون حکومت وقت اور ہماری پاک افواج کو پکار پکار کر کہہ رہا ہے……..
ہمارا خون بھی شامل ہے تزئین گلستاں میں……..
ہمیں بھی یاد کرلینا چمن میں جب بہار آئے……..!
یوں تو اہلیان کراچی کے ہزاروں شہداء جو اس دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے……..
ان سب کی جانیں قیمتی تھیں……..اور ان کا خون بھی……..
لیکن اللہ کے نبی کے فرمان کے مطابق ان علماء حق کا خون زیادہ قیمتی تھا……..
اس لیے کہ ایک عالِم کی موت پورے عالَم کی موت کے برابر ہے……..
آپریشن ضرب عضب……..بلاشبہ ملک کے لیے ضروری ہوگا……..
لیکن……..اس سے کہیں زیادہ ضروری……..
ان علماء حق کے قاتلوں کی گرفتاری اوران کو کیفرکردار تک پہچانا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے……..
قدم قدم روش روش یہاں لہو وہاں لہو
میں کیابتاوں یہ حادثہ کہاں کہاں گزرگیا
بقول کسے
پھر” قصرِجہانگیر” ہے زنجیرسے خالی
ایوان کوئی عدل کے قابل نہیں ملتا
اس کوچہ وحشت میں ہم آباد ہیں جس میں
مقتول تو مل جاتے ہیں، قاتل نہیں ملتا !!
دعا ہے اللہ تعالی تمام شہدا کرام کی شہادت کو قبول فرمائے اور اس ادارے کی حاسدین سے حفاظت فرمائے اور ان قاتلوں کو نشان عبرت بنادے آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں