ایک ضروری وضاحت ، زید حامد صاحب کیلئے

12106788_532754456888692_1841259180853877259_n

نبیل اقبال

زید حامد صاحب اس ملک کے ایک نامور دفاعی تجزیہ نگار اور بلاشبہ ایک انتہائی محب وطن پاکستانی ہیں اور انہوں نے ہر فورم پر بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جنا ح, علامہ اقبال اور ملک پاکستان کا دفاع ہمیشہ نہایت خوبصورت انداز میں کیا اور اس ملک کے دشمنوں کو ہمیشہ بے نقاب کرنے میں صف اول کا کردار ادا کیا یہ اپنے ایک مخصوص جذباتی انداز اور شعلہ بیانی کی وجہ سے ایک خاص شہرت رکھتے ہیں اور خصوصا ہمارے ملک کے نوجوان ان کے افکار سے بہت متاثر دکھائی دیتے ہیں ۔ ہمارے ہاں ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے ک جب ہم کسی شخص کے خیالات سے متاثر ہوتے ہیں تو اس شخص کے خلاف کوئی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور پھر اس کے ہاتھ پہ ایسے بیعت کر لیتے ہیں کہ اگر وہ شخص مان بھی جائے کہ میں نے فلاں موقع پر غلط کہا اور میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں لیکن اسکی تقلید کرنے والے آپ کو پھر بھی اسکے دفاع کرنے میں پیش پیش دکھائی دیں گے اور وہ چونکہ چنانچہ اگر مگر میں تاویلیں دے کے آپ کو الجھائے رکھیں گے۔ اور ہم یہ بات بھول ہی جاتے ہیں کہ ضروری نہیں کہ ہر شخص ہر بات ٹھیک ہی بولے۔ گزشتہ دنوں ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے زید حامد صاحب نے ایک سوال کے جواب میں واضح الفاظ میں کچھ یوں فرمایا کہ “لوگوں کے ہاں ایک تاثر ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا جب کہ ہمارے ملک میں موجود دہشت گردوں کو ایک خاص مسلک کی حمایت حاصل ہے” اور پھر یہی نہیں بلکہ انہوں نے کچھ علماء کا نام لے کر انہیں دہشت گردوں کا کھلا حمایتی قرار دیا جب کہ مولانا طارق جمیل صاحب کے بارے میں انکے الفاظ کچھ یوں تھے کہ”مولانا صاحب نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے اور وہ کھل کے دہشت گردوں کی مخالفت نہیں کرتے اور سارے دہشت گرد مولانا صاحب کی بڑی عزت کرتے ہیں اور یہ کب بولیں گے جب ان کے سامنے بچوں کی لاشیں رکھی جائیں گی “? اور پھر یہی نہیں سوشل میڈیا پر پچھلے کئی مہینوں سے زید حامد کی جانب سے مولانا طارق جمیل صاحب کی ذات پر براہ راست ہرزہ سرائی دیکھنے کو ملتی ہے گویا دوسرے الفاظ میں انہوں نے دہشت گردوں کو مولانا صاحب کا شاگرد قرار دیا ۔استغفراللہ ۔ زید حامد صاحب کو شاید اندازہ ہی نہیں کہ وہ کیا کچھ کہ گئے۔ دہشت گردی کو ایک خاص مسلک سے جوڑ کر انہوں نے ملک کو خدانخواستہ ایک نا ختم ہونے والی فرقہ واریت کی جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کی اور کس کو نہیں معلوم کہ مولانا صاحب وہ شخص ہیں جو پچھلے تیس برس سے شب و روز اس امت میں جوڑ پیدا کرنے کے لئے اپنے آپ کو تھکا رہے ہیں ۔ مولانا صاحب کے بارے میں ایسی رائے وہی لوگ دے سکتے ہیں جو ان کے دروس باقاعدگی کے ساتھ سنتے نہ ہوں یا جنہیں معلوم ہی نہ ہو کہ مولانا صاحب جس جماعت کے ساتھ منسلک ہیں ان کا اولین مقصد کیا ہے اور وہ کس عظیم مشن پر کام کر رہے ہیں اس جماعت کا شیوہ ہی یہ نہیں کہ وہ نام لے کر کسی خاص شخص, کسی خاص پارٹی یا کسی بھی حکمران کے خلاف بات کریں ۔ ہمارا ملک آج تباہی کے جس دھانے پر آ کھڑا ہے کئی لوگ حکمرانوں کو اس کا ذمہ دار سمجھتے ہیں کچھ لوگ امریکہ ,انڈیا اور اسرائیل کی سازش قرار دیتے ہیں لیکن زید حامد صاحب کیا آپ ہمیں یہ بتانا پسند کریں گے کہ کتنی بار مولانا صاحب نے انڈیا ,امریکہ اور اسرائیل کا نام لے کر انہیں ذمہ دار ٹھہرایا? یقینًا کبھی نہیں ۔ اس کا مطلب کل آپ انہیں ہندوستان کا ایجنٹ قرار دیں کہ وہ ہندوستان کا نام ہی نہیں لیتے۔

مولانا صاحب کئی بار واضح الفاظ میں کہہ چکے ہیں خودکش حملے حرام اور ناجائز ہیں اور اسلام میں اسکی کوئی گنجائش نہیں

اصل حقیقت کیا ہے! دراصل مولانا طارق جمیل صاحب ہمارے تمام مسائل کو اللہ کی طرف سے امتحان اور ہمارے اعمال کا نتیجہ قرار دیتے ہیں ۔ حدیث پاک کا مفہوم ہے آپ جب معراج پر تشریف لے جا رہے تھے تو آپ کو کچھ چیزیں اوپر جاتی ہوئی نظر آئیں اور کچھ چیزیں زمین پر گرتے ہوئے دکھائی دیں ۔ آپﷺ نے جبرائیل سے پوچھا یہ کیا ہیں ۔ جبرائیل نے کہا جو کچھ اوپر جا رہا ہے وہ لوگوں کے اعمال ہیں اور جو کچھ نیچے جاتا دکھائی دے رہا ہے وہ اللہ کے فیصلے ہیں ۔ قرآن میں ایک جگہ ارشاد ہے,سورہ روم میں اللہ تعالی فرماتا ہے “ظہر الفساد فی البر ولبحر بما کسبت ایدالناس ” ترجمہ۔” خشکی اور تری میں جو بھی فساد / ہلاکت ہے وہ تمھارے اعمال کا نتیجہ ہے ” مولانا صاحب ان احادیث اور قرآن کی روشنی میں بارہا اس بات کا ذکر کر چکے ہیں کہ میں کسی دوسرے کا رونا کیوں روئوں ۔ ہمارا تو ریڑھی والا بھی کرپٹ ہو چکا ہے اور جہاں تک مذمت کرنے کی بات ہے مولانا صاحب کئی بار واضح الفاظ میں کہہ چکے ہیں خودکش حملے حرام اور ناجائز ہیں اور اسلام میں اسکی کوئی گنجائش نہیں ۔ لیکن صرف مذمت کرنے سے ہمارے حالات بدل جائیں گے? درحقیقت اس ملک کا مسئلہ دہشت گردی یا لوڈ شیڈنگ نہیں ہم من حیث القوم بددیانت اور ظالم ہو چکے ہیں اور ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہم نہ بدلیں لیکن ہمارے حالات بدل جائیں ۔ زید حامد صاحب تاریخ میں نہ کبھی ایسا ہوا ہے اور نہ ہو گا۔مولانا طارق جمیل صاحب بار ہا کہہ چکے جو قوم 3 کام کریں گے وہ کبھی عروج نہیں دیکھے گی جس قوم میں ظلم ہو جو بددیانتی اور جو جھوٹ بولے وہ عروج کبھی نہیں دیکھے گی اور جو قوم یہ 3 کام چھوڑ دے گی چاہے وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو۔ وہ کبھی زوال نہیں دیکھے گی۔
زید حامد صاحب ، مولانا صاحب سمیت ان کی جماعت کے تمام افراد لوگوں کے دلوں پے محنت کر رہے ہیں اور لوگوں کا تعلق اللہ سے جوڑ رہے ہیں ، ہر ایک سے انفرادی سطح پے مل کے اس سے منت سماجت کر کے اللہ کے ساتھ تعلق جوڑنے کی بات کر رہے ہیں یقینا یہ ایک عملی اقدام اور انتہائی مشکل کام ہے اور اس کے لئے لوگوں کے گھروں پے جاکر دستک دے کر انہیں اللہ کی طرف بلانا ہو گا ، اور یقینا یہ کام اللہ اپنے بہت خاص بندوں سے لیا کرتا ہے ۔
زید حامد صاحب، مولانا صاحب سمیت اس ملک کا ہر صاحب نظر شخص یہی سمجھتا ہے کہ اگر ہم بحیثیت مجموعی بد دیانتی ، ظلم اور جھوٹ چھوڑ دیں اور اپنے رب کے حضور توبہ کر لیں تو ہم دہشت گردی سمیت تمام مسائل سے نکل سکتے ہیں ہمیں دوسروں پے تنقید کرنے کی بجائے اپنی اصلاح کرنی ہو گی۔
تجھے کیوں فکر ہے اے گل دل صد چاک بلبل کی
تو اپنے پیرہن کے چاک تو پہلے رفو کر لے

اپنا تبصرہ بھیجیں