مخالفین مولانا طارق جمیل کے نام چند گزارشات. نعمان لیاقت

noman liaquat

نعمان لیاقت
یہ جنوری 2008 کا واقعہ ہے، ہماری فاسٹ یونیورسٹی کے اسٹوڈٹنس کی جماعت ساہیوال شہر میں تھی، یہ دس دن کا سفر تھا اور جو واقعہ میں اپ کو بتانے جارہا ہوں یہ نویں دن کا ہے، ہماری جماعت میں ایک عالم بھی تھے جن کا تعلق سوات سے تھا، ان کے ساتھ ایک 18 سال کا نوجوان بھی تھا جس کان سلیم اللہ تھا، سلیم اللہ کا تعلق بھی سوات سے تھا، سفر کے آخری دن ان عالم نے مجھے ایک عجیب واقعہ سنایا یہ واقعہ خاص طور پر ان لوگوں کے لئے جو آج کل جماعت پر اور مولانا طارق جمیل صاحب پر یہ الزام لگارہے ہیں کہ تبلیغی جماعت دہشت گردی کو سپورٹ کرتی ہے، مولانا نے مجھے بتایا کہ یہ جو سلیم ہے ہماری جماعت میں یہ ایک خودکش حملہ آور بننے جا رہا تھا، اس کی ٹریننگ مکمل ہوچکی تھی ، پاک فوج اور پاکستان کی نفرت اس کے دل میں ڈال دی جا چکی تھی، بھاری معاوضہ کا بھی وعدہ تھا اور عنقریب اس نے اپنے “مشن پر روانہ ہونا تھا، مگر بھلا ہو ان تبلیغ والوں کا جنہوں نے اس کی زندگی کو بچالیا، میں نے اس پر سوال کیا کہ بچایا کیسے انہوں نے ، جواب دیا کہ سلیم کے گھر والوں کو اس کی مشکوک سرگرمیوں کا پتہ چل گیا تھا انہوں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی مگر یہ نا مانا پھر انہوں نے محلے کی مسجد کی جماعت کے امیر صاحب سے درخواست کی کہ وہ سلیم کو سمجھائیں، امیر صاحب ایک سمجھدار انسان تھے انہوں نے عقلی طور سے سلیم کو سمجھایا اور اس کی منت کی کہ وہ اللہ کے راستے میں یعنی جماعت میں کچھ وقت لگائیں، اول سلیم نہ مانا اس کے دل میں اتنی نفرت بھرچکی تھی کہ وہ بضد تھا کہ اس نے اپنے آپ کو شہید کرکے اسلام کی خدمت کرنی ہے ، یہ صورتحال دیکھ کر امیر صاحب نے اللہ سے خوب دعائیں مانگیں، تہجد میں نام کے ساتھ سلیم کے لئے دعائیں مانگی، اور پھر اللہ نے مدد کی ، ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ تمام انسانوں کے دل اللہ کے اختیار میں ہیں، جب چاہیں کسی کا دل بد دیں، بس پھر ایک قسم کا معجزہ ہوا اور سلیم جماعت میں جانے کے لئے تیار ہوگیا اور الحمدللہ پھر وہ جماعت میں ہمارے ساتھ آگیا اور اس طرح کئی معصوم جانیں ضائع ہونے سے بچ گئیں اور مزیدار بات یہ ہے کہ ان سب میں مولانا طارق جمیل صاحب کے بیانوں کا بڑا اہم کردار تھا، جن صاحب نے سلیم کو جماعت کیلئے راضی کیا ان کی اپنی زندگی مولانا طارق جمیل صاحب کے بیانوں کو سن سن کر تبدیل ہوئی تھی، تو میرے معزز قارئین کرام یہ تو ایک کہانی ہے صرف یہ بتانے کے لئے کہ تبلیغی جماعت کا تو نصب العین ہی یہی ہے کہ کسی طرح گنہگاروں کو، اللہ کے نافرمانوں کو اللہ سے واپس جوڑا جائے، دہشت کو امن میں بدلا جائے ، اس جماعت پر لگنے والے الزامات نئے نہیں ہیں بلکہ ہر دور میں لوگوں نے اس جماعت کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن اللہ پاک کے خاص فضل و کرم اور جماعت کے لوگوں کی خالص نیت کی وجہ سے جماعت کے کام کو الحمدللہ مزید ترقی ملی ہے، یہ کم نہیں ہوا۔
لیکن آج کل ایک خاص فکر کے لوگ جس میں ہمارے محترم زید حامد صاحب سرفہرست ہیں مسلسل الزام لگانے کی کوشش کررہے ہیں کہ مولانا طارق جمیل صاحب دہشت گردوں کو سپورٹ کرتے ہیں، س بات پر آنسو بہانے کے علاوہ اور کیا کیا جاسکتا ہےکہ جس انسان نے اپنی زندگی کے 42 سال اسلام کے نام کردئے، جس کی وجہ سے آج لاکھوں انسان حیوانوں والی زندگی چھوڑ کر انسانوں والی زندگی گزاررہے ہیں، آج یہ دن بھی آنا تھا کہ اس پر بھی انگلیاں اٹھائی جائیں، اور جس انسان کے منہ سے آج تک فرقہ واریت کیلئے ایک لفظ بھی نہیں نکلا جس نے ہمیشہ محبیتں بانٹنے کی بات کی، جس نے نفرتوں کو مٹانے کی بات کی، آج اسے دہشت گردوں کا سپورٹر کہا جارہا ہے، بڑے افسوس کی بات ہے۔ اور صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ جہاں تک کہا گیا کہ دہشت گردی کرنے والے مولانا طارق جمیل صاحب کے شاگرد ہیں،نہایت ہی افسوس کی بات ہے، دستور دنیا بھی عجیب ہے کہ بعض دینی حلقے مولانا پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ جہاد پر بات نہیں کرتے اور اب سیکولر طبقے نے یہ کہنا شروع کردیا کہ آپ دہشتگردوں کی مذمت نہیں کرتے، یہاں پر میں ایک واقعہ کا ذکر کرنا چاہتا ہوںایک مرتبہ امیہ بن خلف اللہ کے نبی ﷺ کے پس آیا اور کہنے لگا کہ : اے محمد تو سچا ہے یا تیرے والد؟ یہ سن کر آپﷺ خاموش ہوگئے، اس نکتہ سے علماء نے یہ اخذ کیا ہے کہ سوال کا جواب ہوتا ہے اور اعتراض کا جواب نہیں ہوتا، اور آپ ﷺ ہمیشہ سوال کا جواب دیتے تھے، آپ ﷺ نے کبھی اعتراض کا جواب نہیں دیا، اور یہی نکتہ میری ساری تحریر کا نچوڑ ہے۔ اگر کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ تبلیغی جماعت بشمول مولانا طارق جمیل صاحب ان کی مرضی سے چلیں، ان کی مرضی سے بیانات دیں تو ان سب کے لئے میری عرض ہے کہ یہ نہ کبھی ماضی میں ہوا ہے نہ اب ہوگا اور نہ مستقبل میں اس کی کوئی امید ہے۔ آپ چاہیں اس جماعت پر جتنے مرضی الزامات لگالیں، ان کو دہشتگرد تک کہہ دیں یہ لوگ آپ کو کبھی منفی جواب نہیں دیں گے، ان کے منہ سے اگر کچھ نکلے گا تو صرف وہ دعا ہی ہوگی اور یہ اس جماعت کی کامیابی کا راز ہے، اگر اس جماعت کی کوئی مشکوک سرگرمیاں ہو تیں اور دنیا کا بااثر ترین امریکی ادارہ CIA اس کو کبھی کلیرئنس نہ دیتا۔ امریکہ میں کام کرنے کی، آج دنیا کے 6 براعظموں کے 200 سے زائد ممالک میں جماعت کی موجودگی ہے، لیکن آج تک کسی کی یہ جرات نہیں ہوئی کہ وہ دہشت گردی کا الزام لگائیں ، لیکن ہمارے اپنے بھائیوں نے یہ کارنامہ سرانجام دے دیا، میری ان سے گزارش ہے کہ اپنی رائے پر دوبارہ غور کریں، بلا تحقیق کے باتیں آگے نہ پھیلائیں اور عام لوگوں کو گمراہ نہ کریں۔ جن لوگوں پر خود الزامات کی بھر مار ہے وہ کیسے کسی ایک شخص پر انگلی اٹھا سکتے ہیں جس نے ہمیشہ پیار امن اور محبت کی بات کی ہے اور بد قسمتی یہ ہے کہ الزام وہ لوگ لگارہےہیں کہ جنہوں نے آج تک مولانا سے ملاقات کی ہے اور نہ کسی جماعت کے ذمہ دار سے بات کرکے ان کے نظریہ کو جاننے کی کوشش کی ہے، آخر میں دعوت دیتا ہوں کہ اگر زید حامد صاحب مولانا طارق جمیل صاحب سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے ہزاروں دفعہ رابطہ کرنے کی کوشش کی تو میں یہ ملاقات کروانے کا انتظام کرسکتا ہوں، جواب کا منتظر رہوں گا

2 تبصرے “مخالفین مولانا طارق جمیل کے نام چند گزارشات. نعمان لیاقت

  1. An Excellent piece of work by the writer. can you please the contact details of the writer. I want to appreciate him for writing this masterpiece.

اپنا تبصرہ بھیجیں