16 سالہ انور کا اپناہاتھ کاٹنا سراسر جہالت اور ظلم ہے۔مفتی نعیم

بنوریہ میڈیا/نیوز ڈیسک:
گزشتہ روز پنجاب میں پیش آنے والے واقعہ جس میں ایک 16 سالہ انور نے میلاد کی تقریب امام کے استفسار پر غلطی سے ہاتھ اٹھ جانےپر اپنے آپ کو مبینہ گستاخ سمجھ کر اپنا ہی ہاتھ کاٹ ڈالنے کے واقعے پر نجی ٹی وی کے پروگرام میں مفتی محمد نعیم نے گفتگو کے دوران کہا کہ اس بچے نے جو عمل کیا یہ خودکشی کے مترادف ہے، اور یہ سراسر جہالت اور ظلم ہے، ان کا کہنا تھا ایسے واقعہ کا ذمہ دار مسجد کے وہ منبر و محراب ہیں جو کہ جاہلوں کے ہاتھ میں دے دئے گئے، میں بارہا حکومت وقت کو توجہ دلاتا رہا ہوں کہ مساجد کے امام خطیب کے لئے باقاعدہ نظام مرتب کیا جائے تاکہ یہ منبر و محراب جاہلوں سے محفوظ رہ سکیں، مفتی نعیم کا کہنا تھا کہ مسجد میلاد میں عاشق رسول ہی شرکت کرتے ہیں تو پھر کیا ضرورت تھی امام کو یہ سوال کرنے کی کہ “کون کون آپ ﷺ سے محبت نہیں کرتا ہاتھ کھڑا کرے ” ۔ مفتی نعیم کاکہنا تھا کہ غلطی یا بغیر ارادے کے کوئی کلمہ کفر بھی کہہ دے تو کافر نہیں ہوتا، مزید مفتی نعیم کا کہنا تھا مجھے افسوس ہے کہ یہ بچہ اپنی جہالت پر نادم بھی نہیں بلکہ اس کے والدین اس کی جہالت کا ساتھ دے رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ کل کو ممکن ہے کوئی اٹھے اور مسجد میں کسی کو گستاخ رسول کے نام پر قتل کردے، لہذا اس طرح کے اعمال ہمیں حمایت نہیں کرنی چاہئے

ویڈیو دیکھیں:

Mufti Naeem’s views about 15 year old boy cut  off own hand in…15سالہ انور کا اپنا ہاتھ کاٹنا ظلم اور جہالت ہے۔مفتی نعیم

Posted by Binoria Media on Monday, January 25, 2016

اپنا تبصرہ بھیجیں