اقتصادی راھداری منصوبہ اور مولنا شیرانی. از عبد الغفار شیرانی

از: عبد الغفار شیرانی

کل جب مرشدی کے ساتھ نشست میں افکار و نظریات کی گفتگو اپنے عروج پر تھی، بندہ نے اچانک اقتصادی راھدری منصوبے کے حوالے اپنا سوال میدان میں پھینک دیا.
امام سیاست نے فرمایا
“یہ منصوبہ جنرل مشرف کے دور میں تیار ھوا تھا. اس کا اصل روٹ ڈیرہ اسماعیل، ژوب، قلعہ سیف اللہ سے ھوکر جانا تھا.
نواز شریف برسر اقتدار آۓ تو انہوں نے اصل روٹ کو پختونخوا اور بلوچستان سے پنجاب و سندھ منتقل کردیا.
مجھے اس کا پتہ چلا تو میں نے بلوچستان کے تمام سیاسی لیڈرز کو بلا کر منصوبے میں تبدیلی کی سازش سے آگاہ کیا.
ان تمام صوبائ رھنماؤں کو میں نے تجویز دی کہ سب اپنی اپنی پارٹی قیادت پر اس حوالے سے دباؤ ڈالیں تاکہ تمام سیاسی جماعتیں مل کر اس حوالے سے کوئ مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرسکیں.”
مولنا شیرانی کے بقول
لیکن معاملات اسی طرح چلتے رھے. کسی نے اس طرف کوئ توجہ نہیں دی. میں نے تین چار مرتبہ نیشنل ھائ وے والوں کے ساتھ میٹینگز کیں لیکن کوئ خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا کیونکہ منصوبہ فائنل ھوچکا تھا.
پھر اچانک نواز شریف نے ژوب میں روڈ کا افتتاح کیا جس کو میڈیا نے مغربی روٹ کا نام دیا.
حالانکہ بقول مولنا شیرانی کے
یہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کا منصوبہ ھے اور اس کا اقتصادی راھداری سے کوئ تعلق ھی نہیں.
امام سیاست نے فرمایا “مجھے پاکستان کے سیاسی جماعتوں کے قائدین کا رویہ سمجھ میں نہیں آرھا کہ وہ واقعتا انجان ھیں یا خوامخواہ اپنے کارکنوں کو بے وقوف بنا رھے ھیں.”

اپنا تبصرہ بھیجیں