“پروفائل فار پیس یا پیس فار منوہر”

سلمان ربانی
کسی بھی مسئلے کے حل کے لئے زمینی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔9/11 کے بعد سے پاکستان پر مسلط کی گئی جنگ کا انڈیا نے کتنا فائدہ اٹھایا یہ سب جانتے ہیں،ہندوستانی عوام بھی اپنی دماغ کی بتی جلا کر ذرا غور کریں کہ جس ملک کے سیکیورٹی ادارے اپنے تمام بارڈرز پر دن رات مصروف ہو، افغانستان کے بارڈر سے لے کر ایران کے بارڈر تک سیاچن سے کشمیر تک ، کشمیر سے سیالکوٹ پنجاب بارڈر تک یہاں تک اندرون ملک بھی مصروف ہوں۔!!
ایسا ملک کہ جواپنی جنگ ہے کہ اتحادیوں کی جنگ کے کشمکش میں لاکھوں جانیں قربان کرچکا ہو۔۔۔ پھر ایسے میں پڑوسی ملک بھارت میں ہونے والی ہر کارروائی کا الزام وہاں کی فوج،سیاستدانوں سے لیکر میڈیا تک یک زبان ہو کر الزام پاکستان پر تھوپ دیں، صبح شام نفرتیں اگلنا شروع کردیں!!
ان سب کے باوجود جب بھی مذاکرات /امن/بات چیت کا کوئی بہانہ بنے تو پاکستان ہی پیش پیش ہو،بھارت سے امن کی بات ہو یا مذاکرات کی، حکومت سے لیکر عوام تک سب نے باہم لچک اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا،لچک اور پہل کی اس سے اعلیٰ مثال کیا ہوگی کہ مودی صاحب بمع اپنے پچاسوں عملے کے اچانک بغیر ویزے کے پاکستان آجائیں اور پھر ان کا پرتباک استقبال ہو، پی سی بی کے لوگوں کے ساتھ جو کچھ کیا اس کے بعد بھی پی سی بی ساتھ کھیلنے پر مصر ہو، پروفائل فار پیس کی مہم انڈیا سے شروع کی گئی ہو تو اس مہم میں پاکستانی 4 قدم آگے ہو کر حصہ لیں،انڈیا کے شوبز سے لے کر سیاستدان تک کسی کے بھی پاکستان انے پر انڈیا کے برعکس یہاں کوئی پتھر کیا، جلاؤ گھیراؤ کیا، مخالفت کا کوئی عنصر بھی نہ ہو، پٹھان کوٹ واقعہ پر اپنے آپ کو واقعہ کی تحقیقات میں معاون پیش کرنے سے لیکر ہندوستان کے فقط زبانی الزام پر یہاں دھڑا دھڑ کارروائیاں و گرفتاریاں شروع ہوجائیں، اور ایسے میں بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر یہ کہیں کہ ” جیسا درد ہم نے محسوس کیا ہے وہ محسوس کروار کر رہیں گے” اور اس سے بھی آگے یہ کہیں کہ “وقت اور جگہ کا تعین بھی ہم کریں گے” اور پھر اس کے بعد چارسدہ کی باچاخان یونیورسٹی میں خون کی ہولی کھیلی جائے۔۔!!!
ایسے میں پروفائل فار پیس سے زیادہ پروفائل فار منوہر کی ضرورت ہے۔!!
امن کے لئے پاکستان اپنے میسر اپنی تمام توانائی خرچ کرچکا۔۔!! لاکھوں جانوں کی قربانیاں بھی دے چکا۔۔۔!!! اور پروفائل فار پیس کا بھی ضرورت سے زیادہ حق ادا کیا۔۔!!
لہذا اب ضرورت ہے انڈیا میں منوہر پاریکر سوچ کے خاتمے کی۔!!

peaceformanohar2

منوہر پاریکر سوچ کا جس دن ہندستان میں خاتمہ ہوگیا اس دن پروفائل فار پیس بھی کامیاب ہوجائے گی۔
(نوٹ: ریحان اللہ والی بھائی، محمد لئیق بھائی، پرمود پاہوا بھائی، رام سبرمانیم بھائی اور محترمہ عرشی یاسین صاحبہ سے امید ہے کہ ان باتوں پرکھلے دل سے غوروفکر کریں گے، جن کے نام میں نےذکر کئے یہ ہندوستان و پاکستان کے وہ ہیرے ہیں جنہوں نےاس خطے میں امن کے لئے دن رات ایک کردیا)

#PeaceForManohar

peaceformanohar cover

اپنا تبصرہ بھیجیں